ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

دلت اسکالر کی خودکشی کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے :راہل گاندھی

حیدرآباد۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں زیرتعلیم دلت ریسرچ اسکالر 26سالہ روہت کے 2دن پہلے پیش آئے خودکشی کے واقعہ نے آج ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جبکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اچانک حیدرآباد کا دورہ کرنے یونیورسٹی پہنچے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 19, 2016 05:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
دلت اسکالر کی خودکشی کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے :راہل گاندھی
حیدرآباد۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں زیرتعلیم دلت ریسرچ اسکالر 26سالہ روہت کے 2دن پہلے پیش آئے خودکشی کے واقعہ نے آج ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جبکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اچانک حیدرآباد کا دورہ کرنے یونیورسٹی پہنچے ۔

حیدرآباد۔  حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں زیرتعلیم دلت ریسرچ اسکالر 26سالہ روہت کے 2دن پہلے پیش آئے خودکشی کے واقعہ نے آج ایک نیا موڑ اختیار کرلیا جبکہ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے اچانک حیدرآباد کا دورہ کرنے یونیورسٹی پہنچے ۔ انہوں نے روہت کی والدہ رادھیکا و دیگر ان کے ارکان خاندان کے علاوہ یونیورسٹی کے باب الداخلہ پر احتجاج کررہے طلبہ سے ملاقات کی۔ اس واقعہ پر شدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزیر اور اس طالب علم کی موت کے لئے ذمہ دار تمام افراد کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا۔


انہوں نے اس واقعہ کو ملک کی یونیورسٹیز میں ایک مخصوص نظریہ کو مسلط کئے جانے کا سبب قرار دیا اور ایک ایسے قانون کی ضرورت ظاہر کی جہاں تعلیمی ادارے آزادانہ اظہار خیال کے ضامن بن سکتے ہیں۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت اسکالر کی خودکشی کے واقعہ پر بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی۔ انہو ں نے اس اسکالر کو خودکشی کے لئے مجبور کرنے کا مرکزی مملکتی وزیر لیبر بنڈارودتاتریہ اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پر الزام لگایا۔ راہل گاندھی اچانک دہلی سے آج حیدرآباد پہنچے جہاں بیگم پیٹ ایرپورٹ پر تلنگانہ کانگریس کے سینئرلیڈروں نے ان کا استقبال کیا۔ وہ بیگم پیٹ ائیرپورٹ سے سیدھے یونیورسٹی آف حیدرآباد پہنچے جہاں انہوں نے خودکشی کرنے والے ریسر چ اسکالر کے ارکان خاندان سے تفصیلی طور پر ملاقات کرتے ہوئے ان کو پرسہ دیا۔


راہل گاندھی نے یونیورسٹی سے معطل احتجاجی دلت طلبہ سے بھی تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ راہل گاندھی نے اپنے کرتے پر سیاہ پٹی لگائی تھی۔ انہو ں نے احتجاجی طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو اظہارخیال کی اجازت دینے کے بجائے انہیں دبانے کے لئے یونیورسٹی نے اپنے اختیارات کا ا ستعمال کیا۔ انہوں نے کہا ’’ یونیورسٹی کا نظریہ یہ ہے کہ ملک کے نوجوان یہاں آئیں اور اپنے دل کی بات کا اظہار کریں۔ انہیں یہ محسوس کرنا چاہئے کہ یہ وہ ادارہ ہے جہاں بغیر کسی درد اور بغیر سزا کے طلبہ اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔ یہاں بعض نوجوانوں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے بیشتر نظریات کا اظہار کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں ایسا کرنے نہیں دیاگیا۔ ‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ خودکشی کرنے والے روہت ویملا کو اس بات کا اتنا کرب تھا کہ انہوں نے اپنی جان دے دی۔ اس ادارے نے آزادانہ طور پر کام کرنے اور خیالات کے اظہار کی اجازت دینے کے بجائے اپنے اختیارات کو طلبہ کو دبانے کے لئے استعمال کیا۔ وائس چانسلر اور دہلی میں وزیر نے اس مسئلہ سے منصفانہ طور پر نہیں نمٹا جس کے نتیجہ میں اس طالب علم کے پاس اپنی زندگی کو ختم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ حالات جن کے نتیجہ میں خودکشی کی گئی ان حالات کو وائس چانسلر ‘ وزیر اور یونیورسٹی نے بنایا۔


راہل گاندھی نے طلبہ اور روہت کے ارکان خاندان کے ساتھ یگانگت کاا ظہار کیا۔انہو ں نے کہا کہ روہت ملک کی بہتری ‘ سیکھنے اور اظہار کے لئے یہاں آیا تھا۔ لیکن اسے اتنا کرب محسوس ہوا کہ اس نے اپنے آپ کو ختم کرلیا۔ طلبہ کے نظریات دلچسپ ہوں یا نہ ہوں لیکن انہیں یہ محسوس ہونا چاہئے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں۔ اس مسئلہ پر سیاست کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

First published: Jan 19, 2016 05:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading