ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

مرکزی حکومت امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے قانون لائے: راہل

حیدرآباد۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت سے قانون بنانے کی اپیل کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 31, 2016 09:52 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مرکزی حکومت امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے قانون لائے: راہل
حیدرآباد۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت سے قانون بنانے کی اپیل کی ہے۔

حیدرآباد۔  کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے ملک میں اعلی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے مرکزی حکومت سے قانون بنانے کی اپیل کی ہے۔ مسٹر گاندھی حیدرآباد یونیورسٹی میں دلت اسکالر روہت ویمولا کی خود کشی کے خلاف مظاہرہ کر رہے طالب علموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کل دیر رات ان کے ساتھ بھوک ہڑتال میں شامل ہوئے۔ مسٹر گاندھی نے مظاہرہ کی قیادت کر رہی مشترکہ ورکنگ کمیٹی کے رہنماؤں کی طرف سے لیموپانی کی پیشکش کے بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔


بعد میں کانگریس لیڈر نے نامہ نگاروں سے کہا کہ دوسری بار یونیورسٹی کیمپس کا دورہ کرنے کا ان کا مقصد روہت کے خاندان کے لئے انصاف مانگنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہت یونیورسٹی انتظامیہ کے ظلم کا شکار ہوا اور اسے سچ نہیں بولنے دیا گیا۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ روہت کی خود کشی جیسے واقعات تشویش کا موضوع ہیں۔ ملک میں کہیں بھی دوبارہ ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہئے۔ سابق لوک سبھا اسپیکر پی اے سنگما، روہت کی ماں رادھیکا اور بھائی راجو اور دیگر طالب علم بھی بھوک ہڑتال میں شامل ہوئے۔ مسٹر راہل گاندھی رات تقریبا 11:50 منٹ پر شمش آباد ہوائی اڈے پہنچے اور وہاں سے وہ روہت کی ماں رادھیکا کے ساتھ حیدرآباد یونیورسٹی گئے۔ انہوں نے یونیورسٹی کے احاطے میں تعمیر عارضی یادگار پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ طالب علموں نے روہت ویمولا کی یاد میں یونیورسٹی کے احاطے میں موم بتی مارچ نکالا جس میں مسٹر گاندھی بھی شامل ہوئے۔


روہت کی ماں نے کینڈل مارچ کی قیادت کی اور اس دوران یونیورسٹی کیمپس میں 'ہمیں انصاف چاہیے' کے نعرے گونج رہے تھے۔ اس کے بعد مسٹر گاندھی خود کشی کی مخالفت میں 18 گھنٹے کی اجتماعی بھوک ہڑتال پر بیٹھے طالب علموں کے ساتھ مظاہرے کے مقام پر بیٹھے۔ یہ طالب علم روہت کی خود کشی کے لئے وائس چانسلر پی اپا راؤ اور انچارج وائس چانسلر وپن شریواستو کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مسٹر گاندھی کے یونیورسٹی پہنچنے سے پہلے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے تقریبا 200 کارکنوں نے ان کی کار کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ موقع پر پہنچی پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔ اے بی وی پی نے مسٹر گاندھی پر روہت کی خود کشی پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ان کے دورے کی مخالفت کی۔

خیال رہے کہ یونیورسٹی نے روہت کے ساتھ چار دیگر ریسرچ اسکالروں کو ہاسٹل سے نکال دیا تھا جس کے بعد روہت نے خود کشی کر لی تھی۔اس سے قبل مسٹر گاندھی نے 19 جنوری کو بھی حیدرآباد یونیورسٹی کا دورہ کرکے روہت کی خود کشی کے لئے ذمہ دار تمام لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی مانگ کی تھی۔ انہوں نے اس کے رشتہ داروں سے ملاقات کرکے تعزیت کا بھی اظہار کیا تھا۔


First published: Jan 31, 2016 09:52 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading