உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی کواکثریت ثابت کرنےکےلئے 15دنوں کا وقت دے کرگورنرنےاڑایا جمہوریت کا مذاق: رجنی کانت

    سری کانت نے کہا کہ کرناٹک میں پیر کو جو کچھ بھی ہوا، وہ جمہوریت کی جیت ہے۔ بی جے پی کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے 7 دنوں کا وقت مانگنا اور گورنر وجوبھائی والا کے ذریعہ 15 دنوں کا وقت دے دینا واضح طور پر جمہوریت کا مذاق اڑانا تھا۔

    سری کانت نے کہا کہ کرناٹک میں پیر کو جو کچھ بھی ہوا، وہ جمہوریت کی جیت ہے۔ بی جے پی کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے 7 دنوں کا وقت مانگنا اور گورنر وجوبھائی والا کے ذریعہ 15 دنوں کا وقت دے دینا واضح طور پر جمہوریت کا مذاق اڑانا تھا۔

    سری کانت نے کہا کہ کرناٹک میں پیر کو جو کچھ بھی ہوا، وہ جمہوریت کی جیت ہے۔ بی جے پی کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے 7 دنوں کا وقت مانگنا اور گورنر وجوبھائی والا کے ذریعہ 15 دنوں کا وقت دے دینا واضح طور پر جمہوریت کا مذاق اڑانا تھا۔

    • Share this:
      بنگلورو: کرناٹک الیکشن کے نتائج آنے کے بعد سے چل رہے ہائی وولٹیج ڈراما آخر کار ختم ہوگیا ہے۔ وزیراعلیٰ بننے کے 54 گھنٹے کے بعد اندر ہی بی ایس یدی یورپا کے استعفیٰ دینے کے بعد یہ طے ہوگیا کہ ریاست میں کانگریس جے ڈی ایس کی حکومت بننے جارہی ہے۔ سپر اسٹار اور اب لیڈر رجنی کانت نے پورے معاملے کو لے کر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔

      انہوں نے کہاکہ کرناٹک میں پیر کو جو کچھ بھی ہوا، وہ جمہوریت کی جیت ہے۔ بی جے پی کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے 7 دنوں کا وقت مانگنا اور گورنر وجوبھائی والا کے ذریعہ 15 دنوں کا وقت دے دینا واضح طور پر جمہوریت کا مذاق اڑانا تھا۔

      تھلائیوا نام سے مشہور رجنی کانت نے کہا کہ میں سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جس نے جمہوری اقدار کو زندہ رکھا۔ واضح رہے کہ رجنی کانت نے 31 دسمبر 2017 کو سیاست میں آنے کا اعلان کیا تھا۔ نئی پارٹی بناکر وہ آئندہ تمل ناڈو اسمبلی الیکشن لڑیں گے۔

      https://twitter.com/ANI/status/998108429573996544

      دراصل پیر کو بی ایس یدی یورپا کو فلور ٹیسٹ یعنی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنی تھی، لیکن اس سے قبل ہی یدی یورپا نے گورنر کو استعفیٰ سونپ دیا۔ یدی یورپا نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کی عوام نے ا ن کی پارٹی کو صرف 104 سیٹیں دیں، اگر 112 سیٹیں دیتے تو بی جے پی کو وہاں کے لوگوں کی قسمت بدل سکتی تھی۔ یدی یورپا نے کہاکہ وہ اکثریت ثابت کرنے کے لئے ضروی نمبر نہیں لاپائے ہیں، اس لئے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

       

       

       
      First published: