ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

رام مندر چندہ معاملہ: کمار سوامی نے ایک گہری سازش سے عوام کو آگاہ کیا ہے : محمد ظفر اللہ خان

بنگلورو میں نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے محمد ظفراللہ خان نے کہا کہ ایچ ڈی کمار سوامی سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے فرزند ہیں، دو مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں، جے ڈی ایس پارٹی کے ایک سربراہ ہیں۔ کسی کی سنی سنائی بات کے ذریعہ انہوں نے رام مندر کے چندہ کے سلسلے میں اپنا بیان نہیں دیا ہے۔

  • Share this:
رام مندر چندہ معاملہ:  کمار سوامی نے ایک گہری سازش سے عوام کو آگاہ کیا ہے : محمد ظفر اللہ خان
رام مندر چندہ معاملہ: کمار سوامی نے ایک گہری سازش سے عوام کو آگاہ کیا ہے : محمد ظفر اللہ خان

کرناٹک کے سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی نے حال ہی میں آر ایس ایس پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ رام مندر کیلئے چندہ دینے اور نہ دینے والے گھروں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ اس بیان کے کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار وابستہ تنظیمیں شدید تنقید کررہی ہیں ۔ دوسری جانب جے ڈی ایس کے نیشنل جنرل سیکرٹری محمد ظفراللہ خان نے کہا کہ کمار سوامی نے محض  الزام عائد نہیں کیا ہے بلکہ حقیقت بیان کی ہے۔ بنگلورو میں نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے محمد ظفراللہ خان نے کہا کہ ایچ ڈی کمار سوامی سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا کے فرزند ہیں، دو مرتبہ ریاست کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں،  جے ڈی ایس پارٹی کے ایک سربراہ ہیں۔ کسی کی سنی سنائی بات کے ذریعہ انہوں نے رام مندر کے چندہ کے سلسلے میں اپنا بیان نہیں دیا ہے۔


محمد ظفراللہ خان نے کہا کہ کمار سوامی نے رام مندر کی تعمیر کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کی آڑ میں ایک گہری سازش سے عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔  کمارسوامی کے اس بیان کی مخالفت اور مذمت کرتے ہوئے بی جے پی اور سنگھ پریوار کی تنظیموں نے اسے ایک سیاسی مفاد پر مبنی بیان قرار دیا ہے، اس پر ظفراللہ خان نے کہا کہ کمار سوامی یا جے ڈی ایس پارٹی کو اس سے کیا سیاسی فائدہ حاصل ہوگا ۔


انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی کمار سوامی نے غلط کو غلط کہا ہے۔  آج کے دور میں غلط کو غلط کہنا بہت بڑا گناہ بن چکا ہے ۔ یہاں تک کہ ایسے شخص کو ملک کا غدار بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ اس طرح کے ماحول کی پروا کئے بغیر  کمار سوامی نے سچ بات کہی ہے اور عوام کو ایک گہری سازش سے آگاہ کیا ہے ۔


جے ڈی ایس کے نیشنل جنرل سکریٹری ظفراللہ خان نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر کیلئے چندہ اکٹھا کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ انہیں حاصل ہوئی جانکاری کے مطابق رام مندر کا پروجیکٹ 11 ہزار کروڑ روپے کے تخمینہ پر مشتمل ہے ، پہلے ہی سے مندر کی تعمیر کیلئے 14 ہزار کروڑ روپے موجود ہیں ، اس طرح تین ہزار کروڑ روپے کی زائد رقم ہے ، اس کیلئے چندہ کی ضرورت کہاں سے آئی ؟ ۔

ظفراللہ خان نے کہا کہ چندہ کی آڑ میں ایک طبقہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گھروں کی نشاندہی کا مطلب ایک گہری سازش کو انجام دینا ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ اس معاملہ کی تحقیقات ہونی چاہئے اور متعلقہ سرکاری محکمے چندہ جمع کرنے کے معاملہ پر نظر رکھیں۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ سابق وزیر اعلی کمارا سوامی نے نہ صرف ایک علاقے یا ایک ریاست بلکہ پورے ملک کو جگانے کی کوشش کی ہے ۔

ایک جانب کرناٹک کی قانون ساز کونسل میں جے ڈی ایس ۔ بی جے پی کا اتحاد، دوسری طرف رام مندر کے سلسلے میں  بی جے پی اور سنگھ پریوار کو تنقید کا نشانہ بنانا، کیا جے ڈی ایس پارٹی کی یہ دوہری سیاست نہیں ہے؟  اس سوال پر ظفراللہ خان نے کہا کہ جے ڈی ایس ایک چھوٹی سی پارٹی ہے، کانگریس کے ساتھ مل کر ریاست میں جے ڈی ایس نے حکومت بنائی تھی ، لیکن کانگریس نے کیا کیا، کس طرح کمار سوامی کی مخلوط حکومت کو گرایا ، ان تمام باتوں سے عوام بخوبی واقف ہیں ۔

ظفراللہ خان نے کہا کہ کانگریس نے سیکولر حکومت کو گراتے ہوئے بی جے پی کیلئے راہ ہموار کی اور اس وجہ سے ریاست میں آج بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ اگر کانگریس واقعی سیکولر ہے تو ریاست میں ایک سیکولر پارٹی کو حکومت کرنے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟۔  کس نے کانگریس اور جے ڈی ایس کے چند ایم ایل ایز کو بی جے پی میں شامل ہونے کا مشورہ دیا ۔

ظفراللہ خان نے کہا کہ ریاست کی قانون ساز کونسل میں جے ڈی ایس۔ بی جے پی کے اتحاد کے سلسلے میں کانگریس کو کچھ بھی کہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ریاست میں اچھی خاصی سیکولر حکومت کو گراتے ہوئے کانگریس نے فرقہ پرست طاقتوں کو بڑھاوا دیا ہے ۔ ظفر اللہ خان نے کہا کہ کار بد خود کرے لعنت دھرے شیطان پر کے مصداق ، کانگریس تمام بد کام انجام دیتے ہوئے جے ڈی ایس کو لعنت دیتی ہے ۔ کانگریس کے اس رویہ کو ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ جے ڈی ایس کو سیکولرازم کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

قانون ساز کونسل میں بی جے پی اور جے ڈی ایس کے اتحاد کی وجہ سے ریاست میں انسداد گئو کشی قانون کیا نافذ نہیں ہوا ہے؟ اس سوال پر ظفراللہ خان نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں ہے، جے ڈی ایس نے پہلے ہی گئو کشی بل کی مخالفت کی تھی۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ راجیہ سبھا میں کسان مخالف بل کیسے پاس ہوا؟ طلاق ثلاثہ بل کیسے پاس ہوا؟ دفعہ 370 کیسے ختم ہوا؟ ظفراللہ خان نے کہا کہ ان کی پارٹی پر الزام لگانے والے ان سوالات کا جواب دیں ۔ جب کسی کی زور زبردستی چل رہی ہے تو اس کے آگے سب نے سر جھکا دیا ہے ۔ جے ڈی ایس تو ایک چھوٹی اور علاقائی پارٹی ہے،  بڑی پارٹیوں نے کیوں ہتھیار ڈال دئے ہیں، اس پر عوام کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ جے ڈی ایس انسداد کشی قانون کی ہر سطح پر مخالفت کرے گی ، ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ تک اس قانون کے خلاف آواز اٹھائے گی۔

کرناٹک میں اقلیتوں کی فلاحی اسکیموں کے بجٹ میں ہوئی زبردست کٹوتی کے سوال پر ظفراللہ خان نے کہا کہ مسلم لیڈروں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے بجٹ میں اقلیتوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خواہ جس پارٹی کی بھی کیوں نہ ہو ، تمام مسلم لیڈروں کو مل کر حکومت کے سامنے اقلیتوں کے مطالبات رکھنے چاہئیں ، لیکن آج ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ ظفراللہ خان نے کہا کہ بجٹ میں کٹوتی کیلئے بشمول وہ تمام پارٹیوں کے مسلم لیڈران ذمہ دار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے مسلم لیڈر کبھی بھی مل کر بات چیت نہیں کرتے، آپس میں رائے مشورہ نہیں کرتے، اس اتحاد کے نہ ہونے کی وجہ سے اقلیتی محکمہ کا بجٹ یوں ہی گھٹتا رہے گا۔

ظفراللہ خان نے کہا کہ ریاست کرناٹک میں کانگریس، جے ڈی ایس اور بی جے پی ان تینوں پارٹیوں کو ملا کر 20 کے آس پاس مسلم لیڈران موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ مسلم رہنما اپنے اختلافات کو دور رکھتے ہوئے، ملی کاز کیلئے آپس میں متحد ہو جائیں۔ آئندہ ماہ ریاستی حکومت سال 2020-21 کا سالانہ بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے، لہذا مسلم لیڈران مل کر حکومت سے رجوع ہوں اور بجٹ کے سلسلے میں اقلیتوں کے مطالبات کو پیش کریں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 20, 2021 09:39 PM IST