உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان میں آج رام پرسادبسمل،اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ کو ہوئی تھی پھانسی

    رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ تینوں کو کاکوری ٹرین واقعہ میں ملزم بنایا گیا تھا۔ (تصویر:Wikimedia Commons)

    رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ تینوں کو کاکوری ٹرین واقعہ میں ملزم بنایا گیا تھا۔ (تصویر:Wikimedia Commons)

    انگریزوں نے کاکوری واقعہ کو اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ انگریزوں نے انقلابیوں کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔

    • Share this:
      ہندوستان کی تحریک آزادی کے مرد مجاہدوں کے دلیرانہ واقعات میں کسی کا سب سے زیادہ ذکر اور اہمیت بتائی گئی ہے تو شائد وہ ہے کاکوری واقعہ (Kakori Case)۔ اس واقعے نے انگریزوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا او رپورے ملک میں سنسنی پھیل گئی تھی۔ ویسے تو اس سازش میں صرف 10 انقلابی شامل تھے، لیکن 40 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انقلابیوں پر مقدمہ چلاتے ہوئے رام پرساد بسمل(Ram Prasad Bismil), اشفاق اللہ خان (Ashfaqullah Khan)، روشن سنگھ اور راجندر لاہیڑی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ان میں بسمل، اشفاق اور روشن سنگھ کو 19 دسمبر کو 1927 کو پھانسی دے دی گئی لیکن وہ بھی الگ الگ جگہوں پر۔ 19 دسمبر کو ملک میں یوم شہیداں منایا جاتا ہے۔ اس دن کو تاریخی اور محب وطن کے لحاظ سے بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

      الگ الگ جگہوں پر ہوئی تھی شہادت
      اس بات پر بہت کم لوگوں کا دھیان جاتا ہے کہ انگریز ان انقلابیوں کو پھانسی دینے سے ڈر رہے تھے۔ اُنہیں یہ اندیشہ تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ ان انقلابیوںکو چھڑانے کے لئے جیلوں پر حملہ کرسکتے ہیں۔ اس لئے سبھی چاروں کو الگ الگ جگہوں پر رکھا گیا۔ رام پرساد بسمل کو گورکھپور، اشفاق اللہ کو فیض آباد اور روشن سنگھ کو الہ آباد میں ایک ہی دن پھانسی دی گئی تھی۔

      انگریزوں کی بے قراری
      اتنا ہی نہیں، تینوں کے ساتھی راجندر لاہیڑی کو تو گونڈا جیل میں دو دن پہلے ہی پھانسی دے دی گئی تھی کیونکہ انگریزوں کے خفیہ محکمہ کو پتہ چلا تھا کہ وہ لاہیڑی کو چھڑوانے کا منصوبہ بنا چکے ہیں۔ وہیں ٹھاکر روشن سنگھ کا کاکوری سانحہ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ایک دیگر معاملے کا سہارا لے کر انگریزوں نے بسمل کے دوست روشن سنگھ کو پھانسی کی سزا دلائی تھی۔ اس معاملے میں انگریزوں نے انقلابیوں کو سزا دلوانے کے لئے بہت زور لگادیا تھا۔

      کاکوری میں لوٹ کے کردار
      انقلابی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لئے انقلابیوں کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ غور کیا گیا کہ کیوں نہ انگریزوں سے ہی پیسہ لوٹ لیا جائے، آخر وہ پیسہ تو ہندوستانیوں کا ہی ہے۔ بسمل اور اُن کے ساتھیوں کو پتہ چل گیا کہ خزانہ ٹرین سے جاتا ہے تو انہوں نے انگریزوں کے خزانے کو لوٹنے کا منصوبہ بناڈالا اور طئے کیا گیا کہ 9 اگست 1925 کو ٹرین کو لوٹا جائے گا۔

      لوٹ کے منصوبہ پر بخوبی عمل
      کاکوری میں لوٹ کے اس پلان کو بخوبی انجام دیا گیا۔ کچھ لوگ ٹرین میں سفر کررہے تھے تو کچھ کاکوری اسٹیشن پر اس کا انتظار۔ راجندر لاہیڑی نے چین کھینچ کر ٹرین کو روکا تھا۔ اس کے بعد ٹرین میں موجود انقلابیوں نے لوگوں کو صرف کچھ کرنے سے روکنے کے لئے بندوق دکھائی اور پھر سبھی خزانے کا صندوق لے کر فرار ہوگئے۔

      کون کون تھے شامل
      اس منصوبے میں سورن سنگھ (بھگت سنگھ کے چاچا)، رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان، راجندر لاہیڑی، درگا بھابھی، سچندر بخشی، چندر شیکھر آزاد، وشنو شرن دبلش، کیشو چکرورتی، بنواری لال، مکندی لال، سچندرناتھ سانیال، اور منمتھ ناتھ گپتا نے حصہ لیا تھا۔ لیکن پولیس نے 40 لوگوں کو اس سازش کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان میں سورن سنگھ، رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان، راجنددر لاہیڑی اور روشن سنگھ کو پھانسی کی سزا دلوائی گئی۔

      انگریزوں کی سازش
      انگریزوں نے کاکوری واقعہ کو اپنی عزت نفس کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ انگریزوں نے انقلابیوں کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا۔ کاکوری میں لوٹ کے دوران ایک وکیل احمد علی بھی مسافر تھے اور ٹرین رُکنے پر وہ خواتین کے ڈبے میں اپنی بیوی کو دیکھنے گئے تو منمتھ ناتھ گپتا سے غلطی سے گولی چلی اور وہ مارے گئے۔ انگریزوں نے اس حادثے کا فائدہ اٹھایا اور سبھی انقلابیوں کو قتل کا ملزم بنادیا۔

      تمام کوششوں کے بعد انگریز انقلابیوں کو دہشت گرد قرار دیتے رہے لیکن انقلابیوں نے اپنے برتاو سے اسے کبھی صحیح ثابت ہونے نہیں دیا۔ رام پرساد بسمل نے سرفروشی کی تمنا گیت گا کر اپنے ملک سے محبت دکھائی، اُن کی نظمیں اُن کی شخصیت کو الگ ہی بلندیوں پر لے جاتی ہیں۔ وہیں اشفاق اللہ خان اور روشن سنگھ نے بھی فخر کے ساتھ پھانسی کو گلے لگا کر اپنی ملک سے محبت کو امر کردیا۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: