ہوم » نیوز » No Category

ٹیپو نے 1790 میں دیا تھا ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘ کا نعرہ: ایس ڈی پی آئی

ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ ٹیپو نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ 1790 میں دیا تھا اور اس پر عمل بھی کر کے دکھایا تھا۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 10, 2016 01:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ٹیپو نے 1790 میں دیا تھا ’سب کا ساتھ ، سب کا وکاس‘  کا نعرہ: ایس ڈی پی آئی
ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ ٹیپو نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ 1790 میں دیا تھا اور اس پر عمل بھی کر کے دکھایا تھا۔

گلبرگہ۔ مسلم  تنظیموں کا کہنا ہے کہ بی جے پی مسلم بادشاہوں کو تاریخ کا ویلن ثابت کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اس لیے ٹیپو کو وہ ہندو مخالف قرار دے رہی ہے۔ ایس ڈی پی آئی کا کہنا ہے کہ ٹیپو نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ 1790 میں دیا تھا اور اس پر عمل بھی کر کے دکھایا تھا۔ ایس ڈی پی آئی لیڈر کا کہنا ہے  کہ ٹیپو نے میسور کو ایک خوشحال ریاست بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے تھے۔ شعبہ زراعت ہو یا ہتھیاروں کی تیاری کا کارخانہ ٹیپو نے ہر میدان میں میسور کو خود مختار بنانے کی کوشش کی تھی۔


 مسلم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی  سیاسی مفادات کی خاطر ٹیپو سلطان کو ایک ویلن کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی  ہے۔ ایس ڈی پی آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری کا کہنا ہے ’ سب کا ساتھ ۔ سب کا وکاس‘ کے نعرہ پر تو سب سے پہلے  ٹیپو نے ہی عمل کر کے دکھایا تھا ۔


 ٹیپو دور حکومت میں منگلورو اور کورگ میں ہوئی ہلاکتوں کوایس ڈی پی آئی لیڈر نے سیاسی قرار دیا۔ ایس ڈی پی آئی لیڈر کا کہنا ہے کہ آج بھی اگر کوئی ملک مخالف اقدام کرتا ہےتو اس کی سرکوبی کی جاتی ہے اور ٹیپو نے بھی  وہی کیا تھا۔ ایس ڈی پی آئی لیڈر نے ٹیپو کے سیکولرزم کو شک کے دائرے سے باہر قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں آج بھی شرنگیری مٹھ سمیت 156 مندروں  کو دئے گئے عطیات اور تحفہ جات کا ریکارڈ ملتا ہے۔

First published: Nov 10, 2016 01:49 PM IST