உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka High Court: آپسی تنازعات کے سلسلے میں آخر کار شوہر کو ملی راحت، کرناٹک ہائی کورٹ کا فیصلہ

    علامتی تصویر۔

    علامتی تصویر۔

    بچہ پیدا کرنے کے اصرار سے متعلق الزامات پر جج نے نشاندہی کی کہ یہ شوہر اور بیوی کے درمیان ایک مسئلہ ہے۔ متعلقہ خاتون کا شوہر امریکہ میں آباد ہونے تک بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جس کی وجہ سے ساس ناراض تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Bangalore [Bangalore] | Hyderabad | Kolkata [Calcutta] | Jammu
    • Share this:
      کرناٹک ہائی کورٹ (Karnataka HC) نے امریکہ میں مقیم ایک ڈاکٹر اور اس کی 77 سالہ ماں کو بری کر دیا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ شکایت کنندہ بیوی کئی معمولی پہلوؤں کو بڑھاوا دینے میں بہت حساس دکھائی دیتی ہے اور اسی کا اثر موجودہ کیس پر پڑا ہے۔ بیوی نے الزام لگایا تھا کہ اس کے شوہر نے اسے امریکہ میں ملازمت حاصل کرنے کے لیے مزید تعلیم پر زور دیا تھا۔ اس کے علاوہ اس کی ساس اس بات پر اصرار کر رہی تھی کہ اس کے ہاں بچہ پیدا ہو، اسے زیادہ کھانے پر اکسایا اور اس پر تامل زبان سیکھنے کے لیے دباؤ ڈالا۔

      ستمبر 2013 میں بنگلورو کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے ڈاکٹر اور اس کی ماں کو مجرم قرار دیا تھا۔ ڈاکٹر اور اس کی ماں کو ایک مجسٹریٹ عدالت نے آئی پی سی کی دفعہ 498-اے (ظلم) اور جہیز ممانعت ایکٹ (Dowry Prohibition Act) کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت مجرم قرار دیا۔ بیٹے کو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی جبکہ ماں کو 10 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔

      یکم دسمبر 2016 کو 51 ویں سٹی سول اینڈ سیشن کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی توثیق کی۔ دونوں فیصلوں کو فوجداری نظر ثانی کی درخواستوں کے ذریعے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اور اس کی والدہ کی طرف سے دائر درخواستوں کی اجازت دیتے ہوئے جسٹس ایچ بی پربھاکرا ساستری (Justice HB Prabhakara Sastry) نے نوٹ کیا کہ ٹرائل کورٹ اور سیشن کورٹ نے اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے شکایت کنندہ کی ’خود پیش کردہ گواہی‘ کو نقصان پہچایا ہے۔

      جج نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس حقیقت کو نہیں دیکھا کہ شکایت کنندہ کے مطابق اگر وہ اپنے خاندان کے افراد سے رابطہ کرنے سے قاصر تھی اور صرف ای میل کے ذریعے اپنی چھوٹی بہن سے بات کر سکتی تھی، تو ان تفصیلات کے بارے میں بات کرنے کا اہل گواہ تھا۔ جسٹس ساستری نے نوٹ کیا کہ ای میلز میں شکایت کنندہ کہہ رہی تھی کہ اس کی ساس اسے اچھا کھانے کو کہہ رہی ہیں۔ جج نے نوٹ کیا کہ یہ شکایت کنندہ کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ روایتی خاندان میں پوجا کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      بچہ پیدا کرنے کے اصرار سے متعلق الزامات پر جج نے نشاندہی کی کہ یہ شوہر اور بیوی کے درمیان ایک مسئلہ ہے۔ متعلقہ خاتون کا شوہر امریکہ میں آباد ہونے تک بچہ پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جس کی وجہ سے ساس ناراض تھی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: