உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    برطانوی وزیراعظم کے دلی دورے سے پہلے فسادات نے بڑھائی Govt کی تشویش، سیکورٹی ایجنسیوں کے لئے بڑھے چیلنجز

    بوریس جانسن کے دورے سے پہلے ہندوستان میں پھوٹ پڑے فسادات نے سیکورٹی ایجنسیوں کی اڑائی نیند۔

    بوریس جانسن کے دورے سے پہلے ہندوستان میں پھوٹ پڑے فسادات نے سیکورٹی ایجنسیوں کی اڑائی نیند۔

    بورس جانسن کی واپسی کے صرف دو دن بعد یعنی 25 اپریل سے 27 اپریل تک وزارت خارجہ دہلی میں رائسینا ڈائیلاگ کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں دو درجن سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت کا امکان ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے دورے سے عین قبل دارالحکومت دہلی میں پھوٹنے والے فسادات نے حکومت کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی تشویش ہے کہ بورس جانسن کے دورہ ہندوستان اور خاص طور پر 22 اپریل کو دہلی کے دورے کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Jahangirpuri Violence : جہانگیرپوری میں پھر ہنگامہ، حراست میں لینے گئی ٹیم پر پتھراو

      یہاں آپ کو بتادیں کہ جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پچھلی بار ہندوستان کے دورے پر تھے تو دہلی میں شدید ہنگامے ہوئے تھے جس میں کئی لوگوں کی جانیں گئیں۔ اس وقت حکومت کو کافی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دورے میں ٹرمپ نے ہندوستان میں اقلیتی برادری پر مبینہ مظالم کا معاملہ بھی اٹھایا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Hanuman Jayanti: ’’ہنومان جینتی پر جہانگیرپوری تشدد پہلے سے منصوبہ بند نہیں تھا‘‘

      برطانوی وزیراعظم کے دورے کولے کر الرٹ پر سیکورٹی ایجنسیاں
      قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت اور سیکورٹی اداروں کو یہ فکر ہے کہ برطانوی وزیر اعظم کے دو روزہ دورے کے دوران کسی بھی طرح دوبارہ ہنگامے نہ پھوٹ پڑیں۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے اعلیٰ سطح کے سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Jahangirpuri Violence: وزیر داخلہ امت شاہ کا تیور سخت، دہلی پولیس کو دیا یہ بڑا حکم

      رائسینا ڈائیلاگ کا انعقاد کرنے والا ہے وزارت خارجہ
      یہی نہیں بورس جانسن کی واپسی کے صرف دو دن بعد یعنی 25 اپریل سے 27 اپریل تک وزارت خارجہ دہلی میں رائسینا ڈائیلاگ کا انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں دو درجن سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ کی شرکت کا امکان ہے۔ ایسے میں اگر ان کی موجودگی میں ہنگامے ذرا بھی بڑھ جاتے ہیں تو حکومت کے لیے یہ بڑی شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: