உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sardar Vallabhbhai Patel Death Anniversary: سردار میں کیسے بدلے پٹیل

    سردار ولبھ بھائی پٹیل۔ (تصویر:Wikimedia-commons)

    سردار ولبھ بھائی پٹیل۔ (تصویر:Wikimedia-commons)

    انگلینڈ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک یوروپین اسٹائل والی زندگی پسند کی۔ انہیں برج کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ سوٹ بوٹ میں ہی رہا کرتے تھے لیکن وکالت کا جنون بہت رہا۔

    • Share this:
      سردار ولبھ بھائی پٹیل (Sardar Vallabbhai Patel) ہندوستان کی تحریک آزادی (Freedom Movement) اور آزاد ہندوستان کے شروعاتی سالوں کے سرکردہ لیڈروں میں سے ایک تھے۔ یہ طئے کرنے میں شائد مشکل ہی لگے کہ پٹیل نے ملک کے لئے آزادی کے پہلے زیادہ تعاون دیا یا پھر آزادی کے بعد۔ ایک سچ یہ بھی ہے کہ آزادی کے وقت ملک کو ایک کرنے میں (Unification of India) میں اُن کا بے مثال رول زیادہ یاد کیا جاتا ہے، لیکن کبھی سیاست سے دورے بنائے رکھنے والے پٹیل کی زندگی میں بہت سی تبدیلیاں آئیں جس سے وہ ملک کے سردار اور آئرن مین کے قد تک پہنچ پائے۔

      بچپن سے ہی آزاد ہونے کی کوشش
      31 اکتوبر 1875 ناڈیاد، گجرات میں پیدا ہوئے ولبھ بھائی پٹیل کی زندگی بچپنس ے ہی کچھ جدوجہد سے بھری رہی۔ وہ جھویر بھائی پٹیل اور لاڈبا دیوی کی چھ اولادوں میں سے چوتھی اولاد تھے۔ اُن کی تعلیم سوادھیایے سے ہی ہوئی۔ میٹرک کا امتحان وہ 22 سال کی عمر میں پاس کی جس کی وجہ اُن کے خاندان کے حالات تھے۔ وہ پڑھائی میں کبھی کمزور نہیں تھے، لیکن اپنی خواہشات کم ہی ظاہر کیا کرتے تھے۔ انہوں نے خود کے خرچے پر ہی اپنی پڑھائی کا منصوبہ بنایا اور انگلینڈ جا کر بیرسٹر بننے کا خواب دیکھا۔

      انگلینڈ سے لوٹ کر بدل دی اپنی زندگی
      پڑھائی کرتے کرتے وہ وکیل تو بن گئے لیکن بیرسٹر بننے کا خواب وہ 36 سال کی عمر میں ہی پورا کرپائے۔ احمدآباد مین وہ ایک بہت ہی کامیاب وکیل کے طور پر مشہور ہوگئے۔ انگلینڈ سے لوٹنے کے بعد انہوں نے ایک یوروپین اسٹائل والی زندگی پسند کی۔ انہیں برج کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ سوٹ بوٹ میں ہی رہا کرتے تھے لیکن وکالت کا جنون بہت رہا۔

      سیاست میں داخلہ
      اس وقت پٹیل ہمیشہ سیاست سے دور رہنا ہی پسند کیا کرتے تھے۔ ایک بار جب احمدآباد میں گاندھی جی کا جلسہ ہونا تھا، تب انہوں نے وہاں جانے کے بجائے برج کھیلنے کو ہی ترجیح دی۔ انہوں نے 1917 میں دوستوں کے کہنے پر احمدآباد میونسپل کا الیکشن لڑا اور جیت بھی گئے۔ پہلے اُن کی مہاتما گاندھی میں دلچسپی نہیں تھی۔

      گاندھی جی کے بارے میں نظریہ
      اسی بیچ اُنہیں گاندھی جی کی ایک تقریر سننے کا موقع ملا۔ اُس وقت وہ سگار پیتے پیتے ہی انہیں سن رہے تھے۔ لیکن دھیرے دھیرے اُنیہں لگا کہ گاندھی جی میں کچھ بات ہے۔ اس کے بعد سے گاندھی جی کے بارے میں اُن کا نظریہ بدلنے لگا لیکن نیل آندولن میں گاندھی جی کے تعاون سے وہ بہت زیادہ متاثر ہوئے اور پھر گاندھی جی کے بارے میں اُن کا نظریہ بالکل بدل گیا۔

      ہر آندولن میں ساتھ
      گاندھی جی اور سردار پٹیل نے مل کر پلیگ پھیلنے کےد وران متاثرین کی خدمات کیں۔ مزدور آندولن سے لے کر کھیڑا ستیہ گرہ میں ٹیکس نہ دینے کے آندولن میں بھی پٹیل، گاندھی کے سب سے بھروسہ مند ساتھی کے طور پر نظر آئے۔ کھیڑا ستیہ گرہ پٹیل کا پہلا آزادی کا آندولن تھا۔ اس کے بعد تحریک عدم تعاون، سوراج آندولن، سانڈی یاترا، بھارت چھوڑوں آندولن سبھی میں پٹیل، گاندھی جی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے۔

      گاندھی جی پٹیل کے سینس آف ہیومر کے بہت قائل تھے۔ 1932 میں جب دونوں یداورا جیل میں تھے، تب پٹیل نے گاندھی جی سے ہی تہذیب سیکھی تھی۔ پٹیل کو سردار سے لے کر مرد آہن میں ڈھالنے میں گاندھی جی کا بڑا رول تھا، تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: