உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Supreme Court: مذہبی نشانات اور جماعتوں کے ناموں کو منسوخ کرنے کی درخواست پر مرکز کی نوٹس

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    religious symbols: درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل گورو بھاٹیہ نے انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کا حوالہ دیا ہے۔ درخواست میں دیگر چھوٹی جماعتوں کے ناموں کی بھی نشاندہی کی گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Hyderabad | Jammu | Kolkata [Calcutta] | Lucknow
    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) نے مرکز اور الیکشن کمیشن آف انڈیا (Election Commission of India) سے ایک عرضی پر جواب طلب کیا ہے جس میں مذہبی معنی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے ناموں اور نشانات کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کو بھی کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اکتوبر کو ہوگی۔

      اس ضمن میں جسٹس ایم آر شاہ اور کرشنا مراری کی بنچ یوپی شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم احمد رضوی کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی ہیں۔ اپنی درخواست میں رضوی نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران ووٹ مانگنے کے لیے مذہبی علامتوں یا ناموں کا استعمال عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی ہے اور یہ آئین کے تحت سیکولرازم کے اصول کے خلاف ہے۔

      درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر وکیل گورو بھاٹیہ نے انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کا حوالہ دیا ہے۔ درخواست میں دیگر چھوٹی جماعتوں کے ناموں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی جماعتوں کو شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کے خلاف ان کے نشان یا نام کو منسوخ کرنے کے لئے ریلیف کی کوشش کی گئی ہے جو درخواست گزار کے مطابق مذہب کی علامت ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      ’’نصیر الدین شاہ، شبانہ اعظمی اور جاوید اختر ٹکڑے ٹکڑے گینگ کے سلیپر سیل کے ممبر‘‘ Narottam Mishra

      یہ بھی پڑھیں:

      Pakistani Taliban: اسلام آبادکےساتھ پاکستانی طالبان نےجنگ ​​بندی کی ختم، معاہدےکی خلاف ورزی کالگایاالزام

      آئی یو ایم ایل کے ترجمان نے کہا کہ پارٹی سپریم کورٹ کی ہدایت کا جائزہ لے گی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان ایم اے توصیف نے کہا کہ یہ مسئلہ ابھی بحث کے لیے نہیں آیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: