ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو: مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت، عبدالعزیز امان اللہ نے مفت فارمیسی قائم کی

بنگلورو سے تقریبا 60 کیلومیٹر کی دوری پر تمل ناڈو میں موجود اپنے آبائی مقام "اتھی مگم" میں زراعت کرتے ہوئے آرہے ہیں۔ زراعت اور تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ سماجی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرنا انکی زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ اپنے گاؤں والوں کی مدد کیلئے انہوں نے پہلے ایک اسپتال قائم کیا۔ اب مفت دوائیاں تقسیم کرنے کیلئے فارمیسی شروع کی ہے۔

  • Share this:
بنگلورو: مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت، عبدالعزیز امان اللہ نے مفت فارمیسی قائم کی
بنگلورو: مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انسانیت کی خدمت

بنگلورو۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی کا خواب تھا صحت مند معاشرہ۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے عبدالعزیز امان اللہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ پیشہ سے کسان اور فارماشسٹ عبدالعزیز امان اللہ ملک کے آئی ٹی شہر بنگلورو میں رہتے ہیں۔ بنگلورو سے تقریبا 60 کیلومیٹر کی دوری پر تمل ناڈو میں موجود اپنے آبائی مقام "اتھی مگم" میں زراعت کرتے ہوئے آرہے  ہیں۔ زراعت اور تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ سماجی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرنا انکی زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ اپنے گاؤں والوں کی مدد کیلئے انہوں نے پہلے ایک اسپتال قائم کیا۔ اب مفت دوائیاں تقسیم کرنے کیلئے فارمیسی شروع کی ہے۔


بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کے یوم پیدائش کے موقع پر اس فارمیسی کا افتتاح عمل میں آیا۔ گاؤں کے تمام بڑے لوگوں کو مدعو کرتے ہوئے امان اللہ نے مفت فارمیسی کی خدمت کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے عبدالعزیز امان اللہ نے کہا کہ انہوں نے میسور سے ڈی فارما کی تعلیم مکمل کی، دوائیوں کے پیشہ کے ساتھ ساتھ خاندانی پیشہ زراعت کو بھی جاری رکھا۔ بنگلورو اور بڑے شہروں میں رہنے کے باوجود اپنے آبائی مقام کیلئے کچھ کرنے کا عزم ہمیشہ سے رہا۔ اتی مگم دیہات تمل ناڈو کے کرشنا گیری ضلع ، شولاگیری تعلقہ میں واقع ہے۔ امان اللہ نے اتی مگم اور آس پاس کے دیہاتوں میں غریبی، کسانوں کی کسمپرسی کی حالت کو دیکھتے ہوئے طبی امداد پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اپنی آمدنی کا ایک حصہ طبی، سماجی اور فلاحی کاموں پر خرچ کرنے لگے۔ چند ڈاکٹروں اور نرسوں کی خدمات حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اتھی مگم میں 50 بیڈ پر مشتمل اسپتال قائم کیا۔ اس اسپتال میں گاؤں کے مریضوں کیلئے مفت علاج کی سہولت فراہم کی۔ اب اسی خدمت کی کڑی کے تحت مفت فارمیسی بھی عبدالعزیز امان اللہ نے قائم کی ہے۔


امان اللہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن اور کورونا کی وبا کے درمیان جب لوگوں کو کافی پریشانی کا سامنا تھا، بس اور آٹو سروس سب کچھ بند تھے تو انہوں نے ایک ڈاکٹر، نرس کے ساتھ مل کر اپنے دیہات اتی مگم اور آس پاس کے دیہاتوں کا مسلسل دورہ کیا۔ گھر گھر پہونچ کر بزرگوں، مریضوں کا علاج، ضرورت مندوں میں دوائیاں تقسیم کرتے رہے۔ اس دوران تقریبا 25 ہزار افراد جو بی پی، ذیابیطس اور دیگر امراض میں مبتلا تھے انکا ڈاٹا جمع کیا گیا۔ انہیں باقاعدہ ایک چھوٹی ڈائری دی گئی۔ جس میں مریض کا نام، عمر، بیماری اور دیگر تفصیلات درج کی گئیں۔ امان اللہ نے کہا کہ 5 سے 6 ماہ تک گھر گھر پہونچ کر یہ کام سروے کی شکل میں انجام دیا گیا۔ چونکہ ہمیشہ گھر گھر پہونچ کر دوائیاں تقسیم کرنا ممکن نہیں، اس لئے اتی مگم میں مستقل فارمیسی قائم کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی جی کے یوم پیدائش کے موقع پر اس فارمیسی کا افتتاح عمل میں لایا گیا۔


امان اللہ نے کہا کہ نہ صرف ان کے اسپتال بلکہ دیگر اسپتالوں کی چٹیوں پر یہاں مفت دوائی دی جائیں گی۔ زیادہ تر بی پی اور ذیابیطس کی دوائیاں یہاں دستیاب رہیں گی۔ اپنے صرف خاص سے  اسپتال قائم کرنے کے بعد امان اللہ نے مفت ایمبولینس سرویس اور اب مفت فارمیسی شروع کرتے ہوئے اپنے گاؤں کے تمام لوگوں کے دل میں جگہ بنالی ہے۔ ان کی اس خدمت پر کیا ہندو، کیا مسلمان سبھی خوشی اور راحت کا اظہار کر رہے ہیں۔ امان اللہ کہتے ہیں کہ انسان دنیا میں خالی ہاتھ آتا ہے اور خالی ہاتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں ایک انسان دوسروں کے کام آئے، دوسروں کے دکھ اور درد میں سہارا بنے، اپنے رب کو راضی کرے، بس اسی مقصد اور جذبہ کے ساتھ انہوں نے یہ خدمت کا سلسلہ شروع کیا اور آنے والے دنوں میں انسانیت کی فلاح اور بہبود کے مزید کام انجام دینے کا عزم رکھتے ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 03, 2020 09:17 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading