உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مردوں کی مانیں تو خوبصورت خاتون کا ساتھ آنکھوں کو وہ تازگی دیتا ہے جو Vitamine C کا کیپسول بھی نہ دے سکے!

    ششی تھرور اور سپریہ سولے ۔

    ششی تھرور اور سپریہ سولے ۔

    خوبصورت عورتوں کی صحبت پارک میں صبح کی سیر کی طرح ہے۔ جسم بھی تندرست رہے گا اور آنکھوں کو بھی تازگی ملتی رہے گی۔ اس لیے عورتوں کو ہر اس جگہ ہونا چاہیے جہاں مرد ہوں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پارلیمنٹ میں ششی تھرور اور سپریہ سولے کے درمیان بات چیت کے درمیان کا ویڈیو اور تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ہیں۔ نیشنل کانفرنس لیڈر فاروق عبداللہ لوک سبھا میں تقریر کر رہے تھے۔ اس کے بالکل پیچھے ایم پی ششی تھرور این سی پی لیڈر سپریا سولے کو سن رہے تھے۔ تھرور کا سننے کا انداز دل موہ لینے والا تھا، ساتھ ہی ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح میٹھی مسکراہٹ تھی۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور ایک میم بن گئی کہ مرد مرد ہی رہے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Delhi High Court کا اہم تبصرہ, شادی کا سچا وعدہ کرکے بنائے گئے جسمانی تعلقات ریپ نہیں

      تھرور نے واضح بھی کیا کہ وہ سپریا کی مدد کر رہے تھے۔ ٹھیک ہے، اگر وہ اس کی وضاحت بھی نہیں کرتے ہیں، تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا. اصل بات یہ ہے کہ عورتیں جہاں رہیں گی عورتیں ہی رہیں گی۔ پارلیمنٹ میں رہنا انہیں لیڈر نہیں بنا سکے گا اور نہ ہی کسی لیب میں کھڑے رہنا انہیں سائنسدان بنا پائے گا۔ رہیں گی وہ صرف عورتیں ہی جن کا اصل کام مردوں کا دل بہلانا ہے۔ یاد دلادیں کہ انہی ششی تھرور نے گزشتہ سال سرمائی اجلاس میں خواتین اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ایک تصویر ٹویٹ کی تھی - اس کیپشن کے ساتھ لکھا تھا - 'کون کہتا ہے کہ لوک سبھا کام کرنے کے لیے پرکشش جگہ نہیں ہے؟' بظاہر سادہ سی کیپشن، لیکن جس کا معنی کافی گہرے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مدھیہ پردیش کی 56 سال کی غیر شادی شدہIAS کی لو اسٹوری- شیل بالا نے کہا’شائد اس لئے ۔۔۔

      خوبصورت عورتوں کی صحبت پارک میں صبح کی سیر کی طرح ہے۔ جسم بھی تندرست رہے گا اور آنکھوں کو بھی تازگی ملتی رہے گی۔ اس لیے عورتوں کو ہر اس جگہ ہونا چاہیے جہاں مرد ہوں۔ اس لیے نہیں کہ وہ قابل ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ حسین ترین ہیں، اور مردانہ آنکھوں کو وہ تازگی بخشتی ہیں، جو وٹامن اے کا کیپسول بھی نہیں دے سکتا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: