ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ٹی آر ایس کو جھٹکا، دوباک اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی سے شکست

ایک صحافی سے رکن اسمبلی تک کا سفر کرنے والے رگھو نندن ریڈی نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایل ایل بی کیا اور سیاست میں حصہ لینے کے علاوہ وہ قانون کی بھی پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کے موکلین میں ممبر پارلیمنٹ اور صدر مجلس اسد الدین اویسی بھی شامل ہیں۔

  • Share this:
ٹی آر ایس کو جھٹکا، دوباک اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی سے شکست
ٹی آر ایس کو جھٹکا، دوباک اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی سے شکست

بی جے پی کے سینئر اور ہمیشہ کیڈر کی پہنچ میں رہنے والے لیڈر کے طور پر مشہور رگھو نندن راؤ کا تعلق ضلع سدی پیٹ کے شہر دوباک سے ہے ۔ اس سے پہلے انہوں نے دوباک حلقہ اسمبلی سے دو بار مقابلہ کرتے ہوئے ٹی آر ایس سے شکست کھائی تھی۔ ایک صحافی سے رکن اسمبلی تک کا سفر کرنے والے رگھو نندن ریڈی نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایل ایل بی کیا اور سیاست میں حصہ لینے کے علاوہ وہ قانون کی بھی پریکٹس کرتے ہیں۔ ان کے موکلین میں ممبر پارلیمنٹ اور صدر مجلس اسد الدین اویسی بھی شامل ہیں۔


سال 2018 کے اواخر میں ہوئے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو تلنگانہ میں صرف ایک نشست حاصل ہوئی تھی ۔ لیکن 2019 پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے کم بیک کرتے ہوئے چار پارلیمانی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی تلنگانہ بی جے پی کے حوصلے بلند ہو گئے تھے۔ حالانکہ اس کے بعد ریاست میں ہوئے میونسپل انتخابات میں بی جے پی کا مظاہرہ اچھا نہیں رہا لیکن ایسا لگتا ہے اس سے ان کی ہمت زیادہ پست نہیں ہوئی۔ ٹی آر ایس کیلئے دوباک  حلقہ اسمبلی میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی آسان سمجھا جا رہا تھا۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندشیکھرراؤ  تعلق رکھتے ہیں اور ٹی آر ایس کا قلعہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں ان کے سابقہ ایم ایل اے کے انتقال کے بعد ان کی زوجہ ایس سجاتا کو یہاں سے امیدوار بنایا تھا۔ ایک اور خاص بات یہ تھیکہ ٹی آر ایس کے معروف لیڈر ہریش راؤ انتخابی مہم کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے جو کہ کامیاب الیکشن مہم چلانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔


اس طرح کے حالات میں کسی برسر اقتدار پارٹی کے لیے ضمنی انتخاب میں کامیابی کو یقینی سمجھا جاتا ہے لیکن  بی جے پی نے یہاں سے آسانی سے جیتنے کے ان کے منصوبہ کو کامیاب ہونے نہیں دیا۔ دُوباک ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی کو اس لحاظ سے بھی اہمیت دی جا رہی ہے کہ یہ انہیں  بلدیہ حیدرآباد کے فروری میں متوقع انتخابات سے کچھ عرصہ  پہلے ہی حاصل ہوئی ہے۔ سال 2016 میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے گزشتہ انتخابات میں بی جے  پی کو 150 میں سے صرف چار نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ دوباک کی کامیابی بی جے پی کےحوصلوں کو مزید بلند کرے گی۔


دوباک اسمبلی انتخاب میں کانگریس کو تیسرا مقام حاصل ہوا۔ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس کامیابی سے ریاست میں آنیوالے انتخابی مقابلوں میں بی جے پی اپنے کو  ٹی آر ایس کی اصل حریف کے طور پر پیش کرنے کے موقف میں آچکی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 10, 2020 05:52 PM IST