اپنا ضلع منتخب کریں۔

    شردھا قتل کیس: آفتاب کا کیا جائے گا نارکو ٹیسٹ، ساکیت کورٹ کا روہنی فانسک لیب کو حکم

    Youtube Video

    ساکیت کورٹ نے روہنی فارنسک سائنس لیب کو شردھا واکر کے قتل کے ملزم آفتاب پونا والا کا 5 دنوں میں نارکو ٹیسٹ کرانے کو کہا ہے۔ اس قتل کیس کی مسلسل تفتیش میں ہر لمحہ نئے انکشاف ہو رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      شردھا قتل کیس میں نئی ​​دہلی سے بڑی خبر آئی ہے۔ ساکیت کورٹ نے روہنی فارنسک سائنس لیب کو شردھا واکر کے قتل کے ملزم آفتاب پونا والا کا 5 دنوں میں نارکو ٹیسٹ کرانے کو کہا ہے۔ اس قتل کیس کی مسلسل تفتیش میں ہر لمحہ نئے انکشاف ہو رہے ہیں۔ ملزم نے دہلی کے مہرولی میں اپنی ساتھی شردھا کا قتل کر دیا اور اس کی لاش کے 18 سے 20 ٹکڑے کر دیئے تھے۔ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ اس نے شردھا کے جسم کے 35 ٹکڑے کر دیے تھے۔

      پولیس نے بتایا کہ آفتاب کو جب پکڑا گیا تو وہ منہ گول گول جواب  دے کر آنکھوں میں دھول جھونک رہا تھا۔ لیکن، جب پولیس نے اس سے سختی سے پوچھ گچھ کی تو اس نے توڑ پھوڑ کی اور قتل کے تمام راز اگل ڈالا۔ پولیس کے مطابق، آفتاب شردھا کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے بعد سب سے پہلے ممبئی پہنچا۔ پولیس کی ٹیموں نے اتراکھنڈ، ہماچل سمیت کئی ریاستوں کا رخ کیا ہے تاکہ تفتیش کو تیز کیا جا سکے اور آفتاب کے زائچے کی جانچ کی جا سکے۔ پولیس شردھا اور آفتاب کے ہر سفر سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔

      آفتاب بولا: گانجا پی کر نشے میں کیا شردھا کا قتل، دہرادون میں پھینکے لاش کے کچھ ٹکڑے

      یوپی کی لڑکی کے ساتھ درندگی، والد۔چاچا پر ریپ کا الزام، دادا نے بھی کی چھیڑخانی

      پولیس نے بتایا کہ آفتاب کا لیپ ٹاپ اس کی زندگی کے کئی اہم راز بھی کھول رہا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی پولیس ملک کے سب سے تجربہ کار سائیکاٹرسٹ اور مائنڈ ریڈرز کے ذریعے آفتاب کے دماغ کو پڑھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جس فریز میں آفتاب نے لاش کے ٹکڑے رکھے تھے، وہاں سے پولیس کو شردھا کی لاش سے متعلق زیادہ سے زیادہ فارنسک ثبوت ملنے کی امید ہے۔

      ملزم بلا خوف جنگل جاتا تھا
      پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران پتہ چلا کہ آفتاب لاش کے ٹکڑوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے جنگل تک بے خوف ہوکر جنگل جاتا تھا اور اس کے پاس نہ تو دو پہیہ گاڑی تھی اور نہ ہی کار۔ یہی نہیں، آفتاب نے شردھا کی لاش کے ٹکڑے کرنے کے لیے کوئی عام چاقو یا نہ ہی کوئی چوپ کا استعمال نہیں کیا۔ اس کیس سے متعلق تمام کردار پولیس سے رابطے میں ہیں چاہے وہ آفتاب کا دوست بدری ہو یا پھر روہن جس نے فلیٹ کرائے پر دلوایا  آفتاب کے دوستوں کے ساتھ ساتھ اس کے اہل خانہ سے بھی رابطے میں ہے۔ آفتاب کے والد کے مطابق وہ بہت کھلے ذہن کا لڑکا تھا، جسے بندشیں پسند نہیں تھیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: