ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

علاج کے بعد سدارمیا واپس لوٹے بنگلور، کمارسوامی حکومت پرکنٹرول کی کرسکتے ہیں کوشش

کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ سدارمیا جمعرات کی شب بنگلورواپس لوٹ آئے ہیں۔

  • Share this:
علاج کے بعد سدارمیا واپس لوٹے بنگلور، کمارسوامی حکومت پرکنٹرول کی کرسکتے ہیں کوشش
کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ سدارمیا جمعرات کی شب بنگلورواپس لوٹ آئے ہیں۔

کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ سدارمیا جمعرات کی شب بنگلورواپس لوٹے۔ ایئرپورٹ پر اترنے کے 15 منٹ بعد سدارمیا نے ٹوئٹ کرکے کہا کہ 15 دن کے آیورویدک علاج اورباڈی ڈٹاکسفکیشن کے بعد ان کا جسم اور دماغ سیاست میں سرگرم ہونے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔


حالانکہ یہ ٹوئٹ ایک عام ٹوئٹ لگتا ہے، لیکن اس کے ذریعہ سدارمیا نے اپنی پارٹی کانگریس اور اتحادی جماعت جے ڈی ایس دونوں کو پیغام دے دیا ہے کہ ان کو نظرانداز نہیں کیا جاناچاہئے، آنے والے دنوں میں وہ بڑے کردار میں ہوں گے۔


کانگریس قانون ساز پارٹی کے لیڈراورکانگریس - جے ڈی ایس اتحاد کمیٹی کےچیئرمین سدارمیا، ریاست میں کانگریس - جے ڈی ایس اتحاد بننے کے بعد منگلورکے پاس اججرمیں قدرتی علاج کے لئے چلے گئے تھے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ وہ سیاست سے پوری طرح دور ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے قریبی لیڈروں سے ملاقات کی اوران کی 'ذاتی' بات چیت میڈیا میں بھی لیک ہوگئی۔


سدارمیا کانگریس کے ذریعہ انہیں نظرانداز کرکے جے ڈی ایس سے سیدھے بات چیت کرنے کی وجہ سے پارٹی ہائی کمان سے ناراض ہیں، لیکن آڈیو اورویڈیو کے ذریعہ انہوں نے اپنی ناراضگی عوامی کردی۔ بتایا جارہا ہے کہ اس کے بعد کمارسوامی نے کانگریس صدرراہل گاندھی سے شکایت کرکے سدارمیا پرکنٹرول رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جمعرات کو نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کمارسوامی نے کہا تھا کہ کانگریس - جے ڈی ایس کے درمیان کوئی پریشانی نہیں ہے۔ حکومت اپنی مدت کار مکمل کرے گی، جبکہ اس سے ٹھیک ایک دن قبل سدارمیا نے اپنے معاونین کو کہا تھا کہ یہ حکومت لوک سبھا الیکشن سے زیادہ نہیں چلے گی۔

جے ڈی ایس سربراہ اورایک وقت پرسدارمیا کے گرو رہےایچ ڈی دیو گوڑا نے اتحاد میں چل رہی رسہ کشی پرجمعرات کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس اورجے ڈی ایس کے درمیان کوئی پریشانی نہیں ہے، اتحادی حکومت طویل وقت تک چلے گی۔

دراصل دیوگوڑا کے ساتھ سدارمیا کےدرمیان اختلاف سیاسی کم اور ذاتی زیادہ ہیں، اس لئے کانگریس ان کی ناراضگی کو زیادہ توجہ نہیں دے رہی ہے۔ کرناٹک کے زیادہ ترکانگریسی لیڈروں کا ماننا ہے کہ دیوگوڑا کے تئیں سدارمیا کا غصہ اتحاد ختم ہونے کی وجہ نہیں بننی چاہئے۔
First published: Jun 29, 2018 05:41 PM IST