உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سدرامیا کابینہ میں آئندہ ہفتے ردو بدل ممکن، سیاسی ہلچل تیز

    گلبرگہ۔ سدرامیا کابینہ میں آئندہ ہفتے  ردو بدل  ہو سکتی ہے۔  حکومت میں نئی روح پھونکنے کیلئے نوجوان لیڈروں کو  کابینہ میں موقع دیا جا سکتا ہے۔

    گلبرگہ۔ سدرامیا کابینہ میں آئندہ ہفتے ردو بدل ہو سکتی ہے۔ حکومت میں نئی روح پھونکنے کیلئے نوجوان لیڈروں کو کابینہ میں موقع دیا جا سکتا ہے۔

    گلبرگہ۔ سدرامیا کابینہ میں آئندہ ہفتے ردو بدل ہو سکتی ہے۔ حکومت میں نئی روح پھونکنے کیلئے نوجوان لیڈروں کو کابینہ میں موقع دیا جا سکتا ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:


      گلبرگہ۔ سدرامیا کابینہ میں آئندہ ہفتے  ردو بدل  ہو سکتی ہے۔  حکومت میں نئی روح پھونکنے کیلئے نوجوان لیڈروں کو  کابینہ میں موقع دیا جا سکتا ہے۔ ایسی بھی خبریں ہیں کہ  کم ازکم دس سینئر وزیروں کو باہر کا راستہ دکھایا جا سکتا ہے۔ نو منتخب ہونے والے ایم ایل سی

      رضوان ارشد بھی  وزارت کے دعویداروں میں شامل ہیں۔



      سدرامیا کابینہ میں رد وبدل کا معاملہ ایک طویل عرصے سے التوا کا شکار ہے۔   رد وبدل پر چھائے غیر یقینی کے بادل آئندہ ہفتے چھٹ سکتے ہیں۔  ویسے کابینہ میں رد وبدل سدرامیا کیلئے ٹیڑھی کھیر کا معاملہ بنا ہوا ہے۔ رد وبدل کے وقت میں سدرامیا کو ذات پات ومذہب کا بھی خاص خیال رکھنا ہے۔   سدرامیا جمعرات کو دہلی جانے والے ہیں۔ جہاں پارٹی ہائی کمان سے ردو بدل کے معاملے پر مشاورت ہوگی۔  وزیر اعلیٰ پرکام نہ کرنے والے وزیروں کو ہٹانے اور نئے چہروں بالخصوص نوجوانوں کو موقع دینے کا دباؤ ہے۔

      کرناٹک کابینہ کے  کم سے کم دس وزیروں پرتلوارلٹک رہی ہے ۔ جن میں بابو رائو چنچنسور، پرمیشور نائیک  اور کمنے رتناکرسر فہرست ہیں تو ان کے علاوہ مزید آ سات آٹھ غیر کار کرد وزیروں کی  چھٹی ہو سکتی ہے۔ ان سب کو آئندہ ہفتےہونے والےکابینہ ردو بدل

      میں باہرکا راستہ دکھایا جا سکتا ہے۔


      karnatak1
      جو نوجوان لیڈر کابینہ میں جگہ پانے کے لئے لابئنگ میں مصروف ہیں۔ ان میں ملیکاارجن کھڑگے کے فرزند پرینک کھرگے، سابق وزیر اعلیٰ دھرم سنگھ کے فرزند ڈاکٹر اجئے سنگھ، نو منتخب ایم ایل سی رضوان ارشد کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ  پارٹی کے سینئر ایم ایل ایز  ڈاکٹر اے بی ملک ریڈی،  کے بی کولیواڈ، بسوار اج رائے ریڈی، پی ایم اشوک بھی قطارمیں ہیں تو اسمبلی کے اسپیکر کاگوڈو تھمپا بھی وزارت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

      حالات کے پیش نظر دہلی میں لابئنگ تیز ہوگئی ہے۔ موجودہ وزرا اپنی کرسیاں بچانے کے لئے تو خواہشمند امیدوار کرسیوں کے لئے لابئنگ میں مصروف  ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سینئر وزرا ایچ کے پاٹل،  آر وی دیشپانڈے، ایس آر پاٹل اور روشن بیگ بھی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ کانگریس کے 30 ایم ایل ایز رد وبدل کے مطالبے پر بضد ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ غیر کارکرد وزیروں کی وجہ سے حکومت کی امیج دن بہ دن متاثر ہو رہی ہے۔




      First published: