உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سدرامیا کی قیمتی گھڑی کاجن ایک بار پھربوتل سے باہرآیا

    گلبرگہ : وزیر اعلیٰ سدا رمیا کی قیمتی گھڑی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ ٹی جے ابراہام نامی ایک شخص نے اینٹی کرپشن بیورو میں سدا رمیا کے خلاف قیمتی گھڑی معاملے پر تازہ شکایت درج کرائی ہے۔

    گلبرگہ : وزیر اعلیٰ سدا رمیا کی قیمتی گھڑی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ ٹی جے ابراہام نامی ایک شخص نے اینٹی کرپشن بیورو میں سدا رمیا کے خلاف قیمتی گھڑی معاملے پر تازہ شکایت درج کرائی ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      گلبرگہ : وزیر اعلیٰ سدا رمیا کی قیمتی گھڑی کا جن ایک بار پھر بوتل سے باہر آگیا ہے۔ ٹی جے ابراہام نامی ایک شخص نے اینٹی کرپشن بیورو میں سدا رمیا کے خلاف قیمتی گھڑی معاملے پر تازہ شکایت درج کرائی ہے۔ شکایت گزار کے مطابق سدا رمیا کو وہ قیمتی گھڑی ان کے کسی دوست نے نہیں ، بلکہ پی ڈبلیو ڈی کے ایگزیکٹو انجینئر نے تحفہ میں دی تھی۔
      ٹی جےابراہام نامی اس شخص نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ایک بد عنوان سرکاری افسر نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے یہ قیمتی گھڑی وزیراعلیٰ کو تحفے میں دی تھی ۔
      ٹی جے ابراہام نے اس ضمن میں اینٹی کرپشن بیورو میں وزیر اعلیٰ کے خلاف شکایت درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ ایل رگھو نامی پی ڈبلیو ڈی ایگزیکٹو انجینئرکا سدا رمیا نے وزیر اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کے پہلے دن ہی بنگلورو ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں تبادلہ کیا تھا، جس کےعوض میں رگھو نے قیمتی گھڑی سدا رمیا کو تحفے میں دی ۔ شکایت گزار کے مطابق ایسی ہی گھڑی رگھو نے پی ڈبلیو ڈی کے وزیر ایچ سی مہادیوپا کو بھی تحفے میں دی اور ایک اور گھڑی رگھو کے پاس بھی ہے۔
      شکایت گزار کے مطابق رگھو پر بد عنوانی کے علاوہ آمدنی سے زائد اثاثہ رکھنے کے الزامات بھی ہیں اور لوک آیکت کے پاس معاملہ زیر غور ہے۔ شکایت گزار کے مطابق لوک آیکت پولیس کی جانب سے رگھو کے خلاف داخل پی ایس او کو مسترد کرنے کےلئے رگھو نے سدا رمیا اور پی ڈبلیو ڈی کے وزیر کو قیمتی گھڑی تحفے میں دی۔
      خیال رہے کہ 2012 میں لوک آیکت نے رگھو کے ٹھکانوں پر چھاپہ مارا تھا۔ اس وقت رگھو پی ڈبلیو ڈی کے نیشنل ہائی وے ڈویژن میں ایگزیکٹیو انجینئر تھا۔ شکایت گزار کے مطابق لوک آیکت نے اکتوبر 2014 کو پی ایس او، پی ڈبلیو ڈی محکمہ کو روانہ کیا تھا اور تب سے یہ آرڈو وہیں سرد بستہ میں ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ رگھو کے خلاف بد عنوانی کے الزامات کے باوجود سدا رمیا نے آفس کے پہلے دن ہی اس کا تبادلہ بی ڈی اے میں کر دیا اور کیمپے گوڈا لے آئوٹ کا اضافی چارج بھی اس کے سپرد کردیا گیا ۔
      ابراہام کا کہنا ہے کہ اس کے دعوی کو سچ ثابت کرنے کےلئے اس کے پاس دستاویزی ثبوت ہیں۔ رگھو کے خلاف تحقیقات کیلئے نائب لوک آیکت کے احکامات کے باوجود ریاستی حکومت نےابھی تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے۔
      یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی ہنگامہ آرائی کے درمیان سدا رمیا نے اسمبلی میں وضاحت کی تھی کہ قیمتی گھڑی ان کے دبئی میں رہنے والے ایک دوست ڈاکٹر گریش چندر ورما نے تحفے میں دی تھی۔ انہوں نے قیمتی گھڑی اسپیکر کو دیتے ہوئے سرکاری خزانے میں جمع کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔
      First published: