ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

خواتین کی حفاظت کیلئے خصوصی جیکٹ تیار، چھونے سے لگ سکتا ہے پانچ کلو واٹ کا جھٹکا

خواتین پر مظالم کے واقعات کی روک تھام میں اپنا رول ادا کرنے کے مقصد سے حیدرآباد کے طلباء نے ایک انوکھی جیکٹ تیار کی جو بد معاشوں کو سبق سکھانے کے لیے کام آ سکتی ہے۔

  • Share this:
خواتین کی حفاظت کیلئے خصوصی جیکٹ تیار، چھونے سے لگ سکتا ہے پانچ کلو واٹ کا جھٹکا
خواتین کی حفاظت کیلئے تیارکردہ خصوصی جیکٹ

حیدرآباد۔ ہمارے ملک میں عورتوں پر مظالم کے واقعات میں دن بدن  اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر روز  کوئی نہ کوئی لڑکی یا عورت پر زیادتی کا واقعہ  سننے میں آ تا ہے۔ حیدرابا د کے اقلیتی تعلیمی ادارہ مخفم جاہ کالج آف انجینرنگ  کے پانچ طالب علموں نے ان واقعات سے متاثر ہو کر ایک ایسی  انوکھی جیکٹ تیار کی ہے کہ  اگر یہ جیکٹ کوئی لڑکی پہن لے  اور اگر اس لڑکی کو  کسی نے چھونے کی بھی کوشش کی تو اس کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے  گا۔


عورتوں کی حفاظت کیلئے کچھ نہ کچھ کرنے اور گھر کے باہر کام کرنے والی خواتین کی سیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے  اپنی سعی کا ارادہ کرتے ہوئے مخفم جاہ کالج آف انجینرنگ  کے  پانچ طلباء نے ایک ایسی جیکٹ کی تیاری کا منصوبہ بنایا جو دیکھنے میں تو ایک عام جیکٹ لگے لیکن وقت ضرورت وہ پہننے والے کی حفاظت کے بھی کام آئے۔ یہ طلباء الیکٹریکل اینڈ  انسٹرومنٹیشن  انجینرنگ کے  کورس کے طالب علم  ہیں۔ طلباء کا ماننا ہے کہ اس جیکٹ کا ڈیزائن  'چھوئی موئی' یعنی ٹچ می ناٹ  کے پودے  سے متاثر ہوکر ترتیب دیا گیا ہے۔  ان کا کہنا  ہے کہ  اس اسمارٹ جیکٹ کو کوئی لڑکی پہن لے اور اس  کے بعد اگر کوئی اس کو  ٹچ کرنے کی کوشش کرے تو اس کی خیر نہیں۔


خواتین پر مظالم کے واقعات کی روک تھام میں اپنا رول ادا کرنے کے مقصد سے حیدرآباد کے طلباء نے ایک انوکھی جیکٹ تیار کی جو بد معاشوں کو سبق سکھانے کے لیے کام آ سکتی ہے۔


طالبات آئرہ فاطمه سمرین اور شاہانہ ثروت نے اپنے ہم جماعت لڑکوں رضوان عدنان اور فوزان کے ساتھ  مل کر اس انوکھی اور کار آمد جیکٹ کی تخلیق کی ہے۔ مفخم جاہ کالج آف انجینرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقدہ ٹیک فیسٹیول میں ان طلباء نے اس جیکٹ کا مظاہرہ بھی پیش کیا۔ اس جیکٹ کی  اوپری سطح کو  تانبہ کے باریک تاروں سے بنایا گیا ہے اور اس کا کنکشن  جیکٹ کے جیب میں رکھے ایک الیکٹرک بیٹری سے جڑا ہوتا  ہے۔ اس جیکٹ کو چھونے  سے عام  طور پر  گھر میں لگنے والے الیکٹرک کرنٹ کے جھٹکے سے  تین گنا زیادہ  کرنٹ شاک لگتا ہے۔

ان طلباء کا ماننا ہے کہ اس سے لگنے والے شاک کے  بعد کوئی بھی انسان اپنے حواس کھو دیتا ہے اور تقریباً دس منٹ تک اپنے ہاتھ پیر ہلانے کے قا بل نہیں رہتا۔ بجلی کے زور کا جھٹکا دینے والی اس جیکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ جیکٹ پہننے والی لڑکی یا عورت کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا کیونکہ اس جیکٹ کو پہننے والوں کو لازمی دستانے پہننے پڑتے ہیں اور جیکٹ میں کرنٹ کے دوران وہ خود  اپنے  کنٹرول میں رکھ سکتے ہیں۔
First published: Jan 23, 2020 01:11 PM IST