ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

بنگلورو کے مسلم نوجوانوں میں خدمت خلق کا جذبہ، بنشنکری میں مفت کھانہ تقسیم پروگرام کے 100 دن مکمل

کورونا کی خطرناک بیماری سے ایک جانب انسان پریشان ہے تو دوسری طرف ایسی مثالیں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جو انسانیت کو جلا بخشتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال بنگلورو کے چند مسلم نوجوانوں نے قائم کی ہے۔ بن

  • Share this:

کورونا کی خطرناک بیماری سے ایک جانب انسان پریشان ہے تو دوسری طرف ایسی مثالیں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں جو  انسانیت کو جلا بخشتی ہیں۔ ایسی ہی ایک مثال بنگلورو کے چند مسلم نوجوانوں نے قائم کی ہے۔ بنگلورو کے بنشنکری علاقے میں ہندو۔مسلم، امیر، غریب، تجارت پیشہ، ملازمت پیشہ اسطرح کی ملی جلی آبادی موجود ہے۔ کورونا کی وبا کے سبب جیسے ہی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا اس علاقے کے لوگ بھی خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے۔ علاقے میں تمام چھوٹی بڑی ہوٹلیں بند ہوگئیں، چھوٹے بڑے بازار ، آمد و رفت کے ذرائع سب بند ہوگئے، اسطرح ہر طرف حیرانی و پریشانی کا عالم چھا گیا۔ علاقہ کے چند نوجوان بڑے  بزرگوں کی رہنمائی میں اکٹھا ہوئے۔ فوری طور پر کیا کیا جائے؟ اس  بات پر غور وفکر کرنے لگے، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بھوکوں تک کھانہ پہنچانا تھا۔ کیونکہ اچانک لاک ڈاؤن کے سبب بنگلورو کے کئی علاقوں میں لوگ پھنسے ہوئے تھے ان میں مزدور، مسافر، اسپتالوں میں زیر علاج مریض، طلباء، پی جی سینٹر میں رہنے والے نوجوان اسطرح کئی شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والےافراد شامل تھے۔ ان تک کھانہ، پانی، راشن پہنچانا وقت کا سب سے بڑا تقاضہ تھا۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے 28 مارچ 2020 کو بنشنکری کے منہاج نگر میں مسلم نوجوانوں کی ٹیم نے عارضی کچن قائم کیا۔


یہاں ہر دن الگ الگ نمونہ کا  لذیذ پکوان تیار کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ گرما گرم کھانہ کو پیکیٹ میں ڈال کر بند کرنا، ٹو وہیلروں کے ذریعہ ان پیکیٹوں  کو متاثرین تک پہنچانا، ہر دن کا معمول بن گیا۔ابتداء میں بنشنکری کے ایک پارک کے قریب کچن قائم کیا گیا تھا لیکن جیسے جیسے ضرورت بڑھنے لگی یہ عارضی کچن بنشنکری کے عیدگاہ میں منتقل ہوا۔ انسانیت کی اس خدمت نے اب  100 دن پورے کر لئے ہیں۔ اس کام سے جوڑے ہندوستان صوفی مومنٹ کے نمائندے محمد سکندر کہتے ہیں کہ پہلے 50 دنوں تک روزانہ ڈھائی ہزار فوڈ پیکیٹ متاثرین میں تقسیم کئے گئے۔


اس کے بعد جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں ڈھیل ملنے لگی، بازار کھلنے لگے تو روزانہ ایک ہزار فوڈ پیکیٹ تقسیم کئے جانے لگے اور آج بھی اسی مقدار میں یہ کام جاری ہے۔محمد سکندر نے کہا کہ اس کار خیر میں علاقہ کے چند صاحب مال و دولت نے کھل کر تعاون کیا، نوجوان رضاکاروں کی ٹیم نے دن اور رات خدمت انجام دی، منہاج نگر جے ایچ بی سی ایس لئے آوٹ کی ٹیم، معروف تاجر محمد حفیظ، مرسی مشن، ہندوستان صوفی مومنٹ اسطرح سب نے ملکر بھوکوں تک کھانہ پہنچانے کے اس  پروگرام میں حصہ لیا اور اب بھی یہ کام جاری ہے۔یہاں کی مساجد فیڈریشن کے صدر نیاز پاشاہ نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کی یہ خدمت بلا لحاظ مذہب و ملت انجام دی گئی ہے۔مرسی مشن سے تعلق رکھنے والے ابراہیم اکرم نے کہا کہ کھانہ تقسیم پروگرام کے ساتھ اب کورونا کے متاثرین کی مدد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ بنشنکری عیدگاہ کی مسجد میں کووڈ کئیر سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔


حکومت سے منظوری ملنے کے بعد جلد ہی یہ کام بھی شروع ہوگا۔واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد بنگلورو کے مختلف علاقوں میں سماجی اور ملی تنظیموں، این جی اوز نے کچن قائم کرتے ہوئے کھانہ تقسیم کرنے کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد شہر میں مفت کھانہ تقسیم کیلئے بنائے گئے کئی کچن بند ہو چکے ہیں۔ لیکن بنشنکری کے ان رضاکاروں کا کہنا ہے کہ معاشی تنگی کے سبب کئی لوگ آج بھی دو وقت کی روٹی کیلئے تگ و دو کررہے ہیں۔ ایسوں تک راحت پہنچانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی جارہی ہے۔بہرحال بھوکوں کی بھوک مٹانے کیلئے بنگلورو کے بنشنکری علاقے میں 28 مارچ کو سلگایا گیا چولہا آج بھی گرم ہے۔یہی ہے عبادت یہی دین و ایمان کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 10, 2020 11:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading