உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Subhash Chandra Bose: ہمیشہ پڑھائی میں ڈوبے رہتے تھے سبھاش چندر بوس، کالج کے ایک واقعہ نے بنا دیا انقلابی

    کالج میں ایک انگریز پروفیسر کے ناگوار رویے کے خلاف ہڑتال کرچکے تھے سبھاش چندربورس۔

    کالج میں ایک انگریز پروفیسر کے ناگوار رویے کے خلاف ہڑتال کرچکے تھے سبھاش چندربورس۔

    نیتاجی سبھاش چندر بوس کی پیدائش 23 جنوری، 1897 کو اوڈیشہ کے کٹک میں جانکی ناتھ بوس اور پربھاوتی دیوی کے یہاں ہوئی تھی۔ سبھاش چندر بچپن سے ہی ہوشیار طالب علم تھے۔ ان کے تیز دماغ کو دیکھ کر ہی والد جانکی ناتھ بوس انہیں آئی سی ایس (انڈین سول سروس) کا آفیسر بنانا چاہتے تھے۔ سبھاش نے کٹک کے پروٹسٹنٹ یوروپین اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

    • Share this:
      نئی دہلی:ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے اہم انقلابی سبھاش چندر بوس کی پوری زندگی ملک سے محبت کے لئے وقف رہی۔ آج سبھاش چندر بوس (Subhash Chandra Bose) کی 125ویں یوم پیدائش ہے۔ ان کی زندگی کے کچھ واقعات ایسے ہیں، جو حب الوطنی کے لئے راغب کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ اُن کے کالج کے دنوں کا ہے جس نے انہیں انقلابی بنادیا تھا۔ آئیے ان کی تعلیم اور زندگی کے کچھ اہم واقعات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

      نیتاجی سبھاش چندر بوس کی پیدائش 23 جنوری، 1897 کو اوڈیشہ کے کٹک میں جانکی ناتھ بوس اور پربھاوتی دیوی کے یہاں ہوئی تھی۔ سبھاش چندر بچپن سے ہی ہوشیار طالب علم تھے۔ ان کے تیز دماغ کو دیکھ کر ہی والد جانکی ناتھ بوس انہیں آئی سی ایس (انڈین سول سروس) کا آفیسر بنانا چاہتے تھے۔ سبھاش نے کٹک کے پروٹسٹنٹ یوروپین اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔

      1916 میں انہوں نے کولکاتہ کے مشہور پریسیڈنسی کالج میں داخلہ لیا۔ سبھاش پریسیڈنسی کالج سے فلاسفی میں بی اے کررہے تھے۔ ایک بار سبھاش چندر بوس کالج کی لائبریری میں پڑھائی کررہے تھے۔ تبھی انہیں پتہ چلا کہ ایک انگریز پروفیسر نے ان کے کچھ ساتھیوں کو دھکا دیا۔ سبھاش چندر بوس کلاس کے ریپریزنٹیٹیو تھے، وہ فوری پرنسپل کے پاس پہنچے۔ انگریز افسروں کا رویہ کافی ناگوار تھا۔ اس لئے سبھاش چندر بوس نے پرنسپل سے کہا کہ وہ پروفیسر سے کہے کہ طلبہ سے معافی مانگیں۔ لیکن پرنسپل نے ایسا کرنے سے منع کردیا۔ اگلے دن طلبہ ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ پورے شہر میں یہ بات ہوا کی طرح تیزی سے پھیل گئی۔ انہیں بھی کئی لوگوں کی حمایت ملنے لگی۔

      سبھاش چندر بوس نے اپنی دلیلوں کے ساتھ مدعا رکھا۔ ان کی کارروائی کو صحیح ٹھہرایا گیا لیکن کالج کے پرنسپل نے سبھاش چندر بوس اور اُن کے کچھ ساتھیوں کو بلیک لسٹ میں ڈال دیا۔ اس واقعہ سے سبھاش چندر بوس نے احساس کیا کہ، انگریز ہندوستانیوں کے ساتھ کتنا خراب رویہ رکھتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد سے بوس کے دل میں غصہ بھر گیا اور انہوں نے انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کا راستہ منتخب کرلیا۔

      ہمیشہ پڑھائی میں ڈوبے رہنے والے سبھاش چندر بوس نے 49ویں بنگال ریجمنٹ میں بھرتی ہونے کے لئے امتحان دیا، لیکن آنکھوں کی دیکھنے کی صلاحیت کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نااہل قرار دے دئیے گئے۔ 1920 میں سبھاش نے اائی سی ایس کے امتحان میں چوتھا مقام حاصل کیا لیکن انگریزوں کی غلامی کرنا انہیں منظور نہیں تھا اور انہوں نے آزاد ہند فوج بنائی اور اس فوج کی قیادت کرکے انگریزوں سے لوہا لینے کی ٹھان لی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: