உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Monkeypox: یواےای سےواپس آنےوالے مونکی پوکس مریض کی موت، کیااب ہندوستان کوملےگی راحت؟

    لواحقین نے بتایا کہ یہ شخص تین روز قبل متحدہ عرب امارات سے واپس آیا تھا

    لواحقین نے بتایا کہ یہ شخص تین روز قبل متحدہ عرب امارات سے واپس آیا تھا

    ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس شخص میں مونکی پاکس کی مکمل علامات نہیں تھیں۔ لہٰذا رپورٹ منفی آنے کے امکانات ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے ہزاروں کیسز میں سے اب تک صرف پانچ اموات ہی مونکی پاکس سے ہوئی ہیں۔

    • Share this:
      کیرالہ کے تھریسور سے تعلق رکھنے والے ایک 22 سالہ شخص کی ہفتے کے روز اعلی خطرہ والے متحدہ عرب امارات سے واپسی کے بعد موت ہوگئی ہے۔ جو کہ مونکی پوکس (Monkeypox) انفیکشن سے متاثر تھا۔ حکام نے تصدیق کے لیے متوفی کے نمونے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی الاپوزا (National Institute of Virology at Alappuzha) میں بھیجے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متوفی کے لواحقین سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈبلیو ایچ او (WHO protocols) کے پروٹوکول کے مطابق لاش کا جنازہ کریں۔

      ڈاکٹروں کے مطابق مریض میں مونکی پاکس جیسی علامات تھیں۔ ڈاکٹروں میں سے ایک نے بتایا کہ جب اس کا داخلہ ہوا تو اس میں کوئی سرخ نشان یا چھالے نہیں تھے۔ لیکن بعد میں اس کے جسم پر اس طرح کی علامات ظاہر ہونے لگیں۔ چونکہ مریض اعلیٰ خطرہ والے متحدہ عرب امارات سے آیا تھا، اس لیے اسے آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ اسے تپ دق سے متاثر ہونے کا شبہ تھا اور اسے ہسپتال میں تنہائی میں بھیج دیا گیا تھا کیونکہ ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

      پہ بھی پڑھیں: 

      جموں وکشمیر: ہندوستانی فضائیہ کے شہید افسرکی آخری رسومات ادا، نم آنکھوں سے دی گئی وداعی

      لواحقین نے بتایا کہ یہ شخص تین روز قبل متحدہ عرب امارات سے واپس آیا تھا اور تیز بخار میں مبتلا تھا۔ تاہم اس کے جسم پر سرخ چھالے نمودار ہونے لگے جس سے مونکی پوکس کا شبہ پیدا ہوا۔ دریں اثنا صحت کے حکام نے کہا کہ لوگوں کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے جب تک کہ متوفی کی رپورٹ نہیں آتی ہے.

       

      یہ بھی پڑھیں: 

      Commonwealth Games 2022: ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم پاکستان کو شکست دینے اترے گی



      ابتدائی رپورٹس کے مطابق اس شخص میں مونکی پاکس کی مکمل علامات نہیں تھیں۔ لہٰذا رپورٹ منفی آنے کے امکانات ہیں۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے ہزاروں کیسز میں سے اب تک صرف پانچ اموات ہی مونکی پاکس سے ہوئی ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: