உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مرکزی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے لئے ٹی ڈی پی غیربی جے پی جماعتوں کے رابطے میں

    چندرا بابو نائیڈو ۔ فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی

    چندرا بابو نائیڈو ۔ فائل فوٹو ۔ پی ٹی آئی

    آندھراپردیش کو خصوصی درجہ نہیں دےئے جانے اور دیگر مطالبات کو پورا نہیں کرنے سے ناخوش تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے آئندہ مانسون اجلاس میں مرکزی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے معاملہ میں غیربی جے پی اور غیرکانگریسی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کیلئے رابطہ کرنا شروع کردیا ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      آندھراپردیش کو خصوصی درجہ نہیں دےئے جانے اور دیگر مطالبات کو پورا نہیں کرنے سے ناخوش تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) نے آئندہ مانسون اجلاس میں مرکزی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کے معاملہ میں غیربی جے پی اور غیرکانگریسی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کیلئے رابطہ کرنا شروع کردیا ہے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ٹی ڈی پی کے ارکین پارلیمنٹ نے چھ علیحدہ علیحدہ گروپ بنائے ہیں اور انہوں نے ترنمول کانگریس، بیجو جنتادل، اکالی دل، جنتادل (سیکولر) سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، جنتادل (یونائیٹڈ) ، راشٹریہ جنتادل ، لوک جن شکتی پارٹی، اے آئی ایم آئی این، کیرالہ کانگریس، انڈین نیشنل لوک دل، راشپٹریہ لوک دل، سکم ڈیموکریٹک فرنٹ اور دیگر جماعتوں سے مرکزی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کے معاملہ پر حمایت حاصل کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔


      ٹی دی پی کے اراکین پارلیمان نے حالانکہ گزشتہ اجلاس میں بھی اس سمت میں کوشش کی تھی لیکن کافی تعداد نہیں ہونے اور لوک سبھا میں تعطل پیدا ہونے کی وجہ سے پارٹی اس میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ٹی ڈی پی کے سپریمو اور آندھراپردیش کے وزیراعلی این چندرابابو نائیڈو نے ان تمام جماعتوں کے لیڈروں کو تحریر کردہ خط میں کانگریس کی قیادت والی گزشتہ یوپی اے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آندھراپردیش کی تقسیم میں سائنٹفک نظریہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ بی جے پی نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران منشور میں جو وعدے کئے تھے انہیں پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔


      First published: