ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

این ڈی اے میں ٹوٹ ٹلی ! بی جے پی کے ساتھ فی الحال اتحاد جاری رکھے گی چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی

جنوبی ہند میں بی جے پی کی سب سے بڑی حلیف تلگودیشم پارٹی نے مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے سے اتحاد ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 04, 2018 08:02 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
این ڈی اے میں ٹوٹ ٹلی ! بی جے پی کے ساتھ فی الحال اتحاد جاری رکھے گی چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی
آندھراپردیش کے سابق وزیر اعلی این چندربابونائیڈو: فوٹو کریڈٹ، گیٹی امیجیز۔ ۔ فائل فوٹو

حیدرآباد : جنوبی ہند میں بی جے پی کی سب سے بڑی حلیف تلگودیشم پارٹی نے مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے سے اتحاد ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مرکزی بجٹ میں ریاست کو فنڈز کے الاٹمنٹ کے مسئلہ پر مایوسی کے پیش نظر بی جے پی سے آندھراپردیش کی حکمراں جماعت تلگودیشم کی اتحاد پر نظرثانی کی قیاس آرائیوں کے درمیان یہ فیصلہ سامنے آیا ہے ۔

وزیراعلی این چندرابابو نائیڈو کی زیرصدارت آج دوپہر امراوتی میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ اور سینئر لیڈروں کے ساتھ اجلاس کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ مرکزی وزیر و تلگودیشم کے سینئر لیڈر وائی ایس چودھری نے کہا کہ تلگودیشم پارٹی آندھراپردیش سے متعلق مسائل پر اپنی تشویش سے مرکز کو واقف کروائے گی ۔ اس کے مطالبات پورے نہ ہونے پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نائیڈو نے شیو سینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے سے بات نہیں کی ہے۔ قبل ازیں اس اجلاس میں این چندرابابو نائیڈو نے آج پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو جاریہ بجٹ اجلاس کے دوران مرکز کی این ڈی اے حکومت کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے تیار رہنے کا مشورہ دیا ہے۔انہو ں نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مرکزی بجٹ میں آندھراپردیش کے ساتھ شدید ناانصافی ہوئی ہے جس سے نہ صرف تلگودیشم کے لیڈران میں تشویش پائی جاتی ہے بلکہ ریاست کے عوام بھی خوش نہیں ہیں ۔

ذرائع کے مطابق چندرابابو نے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ مرکزی بجٹ سے عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر تلگودیشم خاموش رہتی ہے تو اس کے بہتر نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔انہو ں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران مرکز پر پارلیمنٹ میں دباو ڈالنے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے ۔ ایوان میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے کارروائی کو چلنے نہ دیاجائے ۔

میڈیا کے مختلف گوشوں سے ایسی اطلاعات سامنے آرہی تھیں کہ چندرابابو نائیڈو آج ے اجلاس میں این ڈی اے سے تعلقات ختم کرلینے کا فیصلہ کرنے وا لے ہیں تاہم ذرائع نے بتایا کہ تلگودیشم کی مرکزی بجٹ سے ناراضگی اور پارلیمانی پارٹی کے ہنگامی اجلاس کے اطلاع پر بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج دن میں صدرتلگودیشم چندرابابو نائیڈو سے فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے جلد بازی میں کسی بھی قسم کا فیصلہ نہ لینے کا مشورہ دیا۔

بتایا گیا ہے کہ راج ناتھ سنگھ نے تین مرتبہ چندرابابو نائیڈو سے ربط پیدا کرنے کی کوشش کی تاہم وہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں مصروف تھے۔اجلاس کے اختتام کے بعد چندرابابو نائیڈو نے راج ناتھ سنگھ سے بات چیت کی اور بجٹ میں آندھراپردیش کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا تذکرہ کیا جس پر مرکزی وزیر نے وزیراعظم سے بات چیت کرتے ہوئے ناراضگی دور کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعلی نے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ فی الفور طو رپر این ڈی اے سے تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس میں تلگودیشم کے ارکان کی جانب سے احتجاج اور دباو کے بعد مرکز کا کیا موقف ہوگا ‘ اس کا جائزہ لینے کے بعد قطعی فیصلہ لیا جا سکتا ہے۔ اجلاس کے اختتام کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر و تلگودیشم کے رکن پارلیمنٹ سوجنا چودھری نے کہا کہ مرکزی بجٹ میں ریاست کے ساتھ جو ناانصافی ہوئی ہے اس مسئلہ پرپارلیمنٹ میں تلگودیشم آواز اٹھائے گی اور ناانصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو خصوصی پیکیج دینے اور نئے ریلوے زون کے قیام پولاورم پروجیکٹ کی تعمیر کے لئے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائی جائے گی۔ تلگودیشم کو ریاست کے مفادات ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لئے صبر کے ساتھ آخری لمحہ تک جدوجہد کی جائے گی۔
First published: Feb 04, 2018 08:02 PM IST