உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انتہائی سنسنی خیز : خاتون نے 139 لوگوں پر لگایا آبروریزی کا الزام ، پولیس بھی رہ گئی حیران ، کیس درج

    انتہائی سنسنی خیز : خاتون نے 139 لوگوں پر لگایا آبروریزی کا الزام ، پولیس بھی رہ گئی حیران ، کیس درج

    انتہائی سنسنی خیز : خاتون نے 139 لوگوں پر لگایا آبروریزی کا الزام ، پولیس بھی رہ گئی حیران ، کیس درج

    پنجا گٹہ پولیس نے کہا کہ معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے اور قصورواروں کے خلاف جلد سے جلد سخت کارروائی کی جائے گی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو ذات کے نام بھی پر گالیاں دی گئیں ۔

    • Share this:
      حیدرآباد : ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں 139 لوگوں نے اس کی آبروریزی کی ۔ پولیس نے جمعہ کو بتایا کہ اس شکایت پر معاملہ درج کرلیا گیا ہے ۔ خاتون کا شادی کے سال بھر بعد 2010 میں طلاق ہوگیا تھا ۔ اس نے شکایت میں کہا کہ اس کے سابق شوہر کے کچھ رشتے داروں نے بھی اس کا جنسی استحصال کیا ۔ خاتون کو میڈیکل ٹیسٹ کیلئے بھیج دیا گیا ہے ۔

      پنجا گٹہ پولیس تھانہ کے ایک افسر نے بتایا کہ معاملہ درج کرلیا گیا ہے اور جانچ جاری ہے ۔ خاتون کی شکایت کے مطابق 139 لوگوں نے گزشتہ کچھ سالوں میں اس کا الگ الگ مقام پر جنسی استحصال کیا اور دھمکی دی ۔ وہ ملزمین کے ڈر سے پولیس میں اتنے دنوں تک شکایت درج نہیں کرا پائی ۔ خاتون نے الزام لگایا کہ شادی کے تیسرے مہینے کے بعد سے شوہر کے چچا زاد بھائی اور رشتہ داروں نے اس کی آبروریزی کرنی شروع کردی ۔

      پولیس نے مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے ۔
      پولیس نے مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے ۔


      پنجا گٹہ پولیس نے کہا کہ معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے اور قصورواروں کے خلاف جلد سے جلد سخت کارروائی کی جائے گی ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو ذات کے نام بھی پر گالیاں دی گئیں ۔ اس کے علاوہ آبروریزی کرتے ہوئے اس کا ویڈیو بھی بنایا گیا اور پھر ملزم خاتون کو بلیک میل کرنے لگا ۔ اس سے کہا گیا کہ اگر وہ اس کے بارے میں کسی کو بتاتی ہے تو سوشل میڈیا پر اس کی تصویر اور ویڈیو وائرل کردیا جائے گا ۔

      پولیس نے مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک این جی او کی مدد سے اس کیس میں معاملہ درج ہوپایا ہے ۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس خاتون کی کئی مرتبہ اجتماعی آبروریزی بھی ہوئی ۔ فی الحال کیس درج ہونے کے بعد پورے معاملہ کی جانچ کی جارہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: