உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Remarks on Prophet Muhammad: پیغمبراسلام ﷺکے بارے میں توہین آمیز تبصرہ!راجہ سنگھ گرفتار

    بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ (فائل فوٹو)

    بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ (فائل فوٹو)

    بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف مظاہروں کے بعد حیدرآباد پولیس کمشنر کے دفاتر، لکڑی کا پل میں ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر اور پرانی حویلی میں پرانے پولیس کمشنر کے دفتر اور شہر کے دیگر اہم مقامات کے باہر بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ (Remarks on Prophet Muhammad)

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Telangana | Mumbai | Lucknow | Kolkata [Calcutta]
    • Share this:
      Remarks on Prophet Muhammad: تلنگانہ کے بی جے پی ایم ایل اے ٹی راجہ سنگھ (Goshamahal BJP MLA Raja Singh) کو آج بروز منگل کی صبح حیدرآباد ساؤتھ زون پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس سے قبل راجہ سنگھ کے خلاف پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گستاخانہ تبصرے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی اور حیدرآباد کے کئی پولیس اسٹیشنوں کے باہر عوام نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج بھی کیا۔ راجہ سنگھ حیدرآباد کے حلقہ گوشہ محل سے ایم ایل اے ہیں اور حال ہی میں ایک ویڈیو اپ لوڈ کی گئی، جس میں راجہ سنگھ نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے خلاف گستاخانہ ریمارکس کیے ہیں۔

      حیدرآباد میں مشتعل عوام بڑی تعداد میں باہر نکل آئے اور انہیں دبیر پورہ، بھوانی نگر، رائن بازار اور میرچوک پولیس اسٹیشنوں میں احتجاج کرتے دیکھا گیا۔ انہوں نے ایک کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر سنگھ کے خلاف احتجاج کیا اور ان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

      حیدرآباد پولس کمشنر سی وی آنند (CV Anand) کے دفتر کے سامنے اور شہر کے دیگر حصوں میں پیر کی آدھی رات کے قریب اور بعد ازاں منگل کی صبح بھی گوشہ محل کے بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ  کی طرف سے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرنے والا ایک ویڈیو جاری کرنے کے بعد احتجاج شروع ہوا۔

      راجہ سنگھ نے اسے ’’کامیڈی‘‘ قرار دیتے ہوئے کامیڈین منور فاروقی (Munawar Faruqui) اور ان کی والدہ کو حیدرآباد میں کامیڈین شو کے دو دن بعد گالیاں دیں۔ ان کے تبصروں سے سینکڑوں لوگ سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے ویڈیو کے بعد بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف دبیر پورہ پولیس (Dabeerpura police) نے ان کے ریمارکس کے لیے مقدمہ درج کیا۔ مظاہرے شروع ہونے کے بعد منگل کو پولیس نے کئی لوگوں کو حراست میں بھی لیا۔


      بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کے خلاف مظاہروں کے بعد حیدرآباد پولیس کمشنر کے دفاتر، لکڑی کا پل میں ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے دفتر اور پرانی حویلی میں پرانے پولیس کمشنر کے دفتر اور شہر کے دیگر اہم مقامات کے باہر بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔


      بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے راجہ سنگھ نے 10 منٹ 27 سیکنڈ کی ویڈیو میں کہا کہ میں نے اپنے آپ سے سوچا کہ وہ بھگوان رام اور سیتا کو گالی دے رہا ہے۔ اس لیے مجھے ان کے اور گول ٹوپیاں پہننے والے لوگوں (مسلمانوں) کے بارے میں تحقیق کرنی چاہیے۔ جس لمحے میں نے یہ کیا، مجھے ایک ویڈیو میں بہت چونکا دینے والی چیز ملی۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک 53 سالہ شخص کی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ اس شخص نے ایک چھ سالہ (پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ وسلم کا حوالہ دیتے ہوئے) لڑکی سے شادی کی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      UNSC:ہندوستان نے کہا-اصلاحی کال کے تئیں سنجیدہ بحث میں شامل ہونے کا ایک صحیح موقع

      ویڈیو کے آخر میں تضحیک آمیز تبصرے کرنے کے بعد راجہ سنگھ نے کہا کہ اس نے جو کچھ بھی کہا وہ مزاحیہ انداز تھا اور وہ خود بھی ان کی باتوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ویڈیو شری رام چینل تلنگانہ (Shree Ram Channel Telangana) پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ سنگھ نے درحقیقت کچھ ایسی باتوں کو دہرایا جو اب معطل بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما (Nupur Sharma) نے حال ہی میں ٹی وی پر کہی تھیں، جو مسلم ممالک کی طرف سے مذمت کرنے کے بعد بین الاقوامی تنازعہ بن گئیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      میرا نام Azamov ہے، میں دہشت گرد ہوں، نوپور شرما تھیں روس میں پکڑے گئے ISIS خودکش دہشت گرد حملہ آور کا ٹارگیٹ

      ریاست بھر میں تلنگانہ پولیس ہائی الرٹ پر ہے۔ دریں اثنا پولیس نے راجہ سنگھ پر حملوں کے خدشے کے پیش نظر منگل ہاٹ اور دھول پیٹ میں اور اس کے آس پاس سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ پولیس حکام نے کہا کہ سیکورٹی کو بڑھایا جا رہا ہے، جیسا کہ سوشل میڈیا پر 'چلو گوشہ محل' کے احتجاج کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں منگل کو آئی ٹی اور صنعت کے وزیر کے ٹی راما راؤ (KTR) کے ذریعہ نئے چندرائن گٹہ فلائی اوور کے افتتاح کے موقع پر بھی زیادہ چوکسی ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: