உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Telangana Budget 2022: تلنگانہ بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح پرزور، تمام اقدامات رہیں گےجاری

    Youtube Video

    ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں ائمہ اور مؤذن کے لیے 5000 ماہانہ مقرر کررکھی ہے۔ وہیں مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان اور کرسمس کے دوران حکومت کمیونٹیز کو تحائف فراہم کیے جاتے ہیں۔

    • Share this:
      تلنگانہ وزیر خزانہ ٹی ہریش راؤ (T Harish Rao) نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت تمام برادریوں، اقلیتوں اور مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے اور ان کا احترام کرتی ہے۔ حکومت ان کمیونٹیز کی فلاح و بہبود کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات سال کے دوران اقلیتی برادریوں کی بہبود کے لیے 6,644 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔

      ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ جب تلنگانہ کی تشکیل ہوئی تو اقلیتی طبقے کے لیے صرف 12 رہائشی اسکول تھے۔ جب کہ ٹی آر ایس (TRS) حکومت نے اقلیتوں کے لیے 192 رہائشی اسکول قائم کیے گئے۔ حکومت کا پختہ یقین ہے کہ اقلیتی برادری کی لڑکیوں کو تعلیم میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔ تقریباً 50 فیصد رہائشی اسکول لڑکیوں کے لیے ہیں۔ اسی لیے اقلیتوں کی طرف سے بہتر ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریاست میں اسکولوں کی کل تعداد 204 ہے اور 1.14 لاکھ لڑکے اور لڑکیاں اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔

      Telangana Budget 2022: تلنگانہ میں مزید بستی دواخانےجلد ہونگےقائم، بجٹ میں دیاگیاخاص زور



      انہوں نے مزید کہا کہ دسویں جماعت سے فارغ ہونے کے بعد لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے 121 اقلیتی رہائشی اسکولوں کو رہائشی کالجوں میں اپ گریڈ کیا۔ اقلیتی لڑکیوں کا داخلہ پہلے 18 فیصد تھا، اب یہ بڑھ کر 42 فیصد ہو گیا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر اضافہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ وزیر نے مزید کہا کہ 54 اقلیتی رہائشی اسکولوں کی عمارتیں زیر تعمیر ہیں۔

      Telangana Budget 2022: تلنگانہ بجٹ اجلاس کے دوران BJP کے 3 ایم ایل ایز معطل، کانگریس نےکیاواک آؤٹ




      ہریش راؤ نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست میں ائمہ اور مؤذن کے لیے 5000 ماہانہ مقرر کررکھی ہے۔ وہیں مذہبی مقامات کی دیکھ بھال کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان اور کرسمس کے دوران حکومت کمیونٹیز کو تحائف فراہم کیے جاتے ہیں۔

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: