ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

حیدرآباد : تین دنوں میں کورونا وائرس کے 135 نئے کیسیز ، ٹیسٹ میں اضافہ کا مطالبہ

بڑی تعداد میں ورکرس کی دوسری ریاستوں سے آمد کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یہ سمجھا جا رہا ہے کہ کورونا کے اعداد و شمار کے گراف کے ' فلیٹننگ کروو ' کے لیے تلنگانہ کو مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • Share this:
حیدرآباد : تین دنوں میں کورونا وائرس کے 135 نئے کیسیز ، ٹیسٹ میں اضافہ کا مطالبہ
ریسرچ کرنے والوں کا دعوی ہے کہ اس دوا کے استعمال سے وینٹی لیٹر پر رکھے گئے مریضوں کی موت کے جوکھم میں ایک تہائی کی کٹوتی ہوئی ہے ۔ جو آکسیجن پر ہیں ، ان لوگوں کی اموات میں پانچ فیصد کی کمی ہوئی ہے ۔

تلنگانہ میں کورونا کے یومیہ میڈیا بلیٹن کے مطابق یکم مئی کو 6 ، دو مئی کو 17، تین مئی کو 21 اور چار مئی کو 3 نئے کیسیز رپورٹ ہوئے ۔ پانچ مئی کو تلنگانہ کے وزیر اعلی نے ریاست میں کورونا کی صورتحال کو قابو میں بتاتے ہوئے یہ کہا کہ ریاستی حکومت نے کورونا کے کیسز کے گراف کے کروو کو فلیٹ کرنے کے قریب ہے ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ روزانہ کورونا کیسیز کی تعداد کم سے کم ہوتی جا رہی ہے ۔


کورونا کی صورتحال پر وزیر اعلی کے سی آر کے اطمینان کے اظہار کے بعد یہ سوال اٹھائے گئے کہ تلنگانہ میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد کتنی ہے ۔ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی مطالبہ کیا کہ حکومت تلنگانہ زیادہ ٹیسٹ کروائے ۔ اس کے جواب میں تلنگانہ کے وزیر صحت نے کہا کہ ریاست میں کورونا کے ٹیسٹ آئی سی ایم آر کے عین مطابق ہیں ۔  لیکن اس سلسلہ میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت سے یہ سوال کیا کہ کووڈ ٹسٹ کو کیوں صرف پرائمری کنٹیکٹس تک ہی محدود رکھا جا رہا ہے ۔ عدالت نے اس سلسلہ میں حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔


اس سلسلہ میں مرکزی وزیر برائے صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے بھی تلنگانہ کے وزیر صحت سے بات چیت کی ، جس کے بعد یہ ہوا کہ پرائمری کیسیز کے ساتھ ہی ساتھ سکنڈری کیسیز کی ٹیسٹنگ پر توجہ دی گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ صرف تین دنوں یعنی نو تا گیارہ مئی کے دوران ایک ہزار ٹیسٹ کئے گئے ، جن میں نئے کورونا پازیٹو کیسیز کی تعداد 143 ریکارڈ کی گئی ۔  جن میں سے 135 کیسیز گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپویشن کے حدود میں سامنے آئے ۔  لیکن پرائمری کے ساتھ ساتھ سیکنڈری کیسیز کی جانچ کا کام صرف شہر حیدرآباد تک ہی محدود رکھا گیا ہے ۔ اب مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ یہ عمل تمام اضلاع میں بھی جاری رکھا جائے ۔


کم تعداد میں جانچ کے بعد اطمینان کا اظہار کرنے والی حکومت تلنگانہ کے لیے زیادہ  تعداد میں ٹیسٹ کے نتائج باعث فکر ہیں ۔ خاص طور پر بڑی تعداد میں ورکرس کی دوسری ریاستوں سے آمد کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد یہ سمجھا جا رہا ہے کہ کورونا کے اعداد و شمار کے  گراف کے ' فلیٹننگ کروو ' کے لیے تلنگانہ کو مزید ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔
First published: May 12, 2020 11:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading