ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تلنگانہ اسمبلی انتخابات نتائج 2018: اکبرالدین اویسی مسلسل پانچویں بارپہنچے اسمبلی، اپنی تقریروں سے تنازعات کا ہوجاتے ہیں شکار

تلنگانہ کے 119 سیٹوں والی اسمبلی میں مجلس نے 8 سیٹوں پراپنے امیدواراتارے تھے۔ اپنی تقریروں کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والے اکبرالدین اویسی کا جلوہ ایک بار پھربرقراررہا ہے۔ 

  • Share this:
تلنگانہ اسمبلی انتخابات نتائج 2018: اکبرالدین اویسی مسلسل پانچویں بارپہنچے اسمبلی، اپنی تقریروں سے تنازعات کا ہوجاتے ہیں شکار
اکبرالدین اویسی فاتح قرار دیئے گئے: فائل فوٹو

مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی کے چھوٹے بھائی اوراپنی تقریروں کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والے اکبرالدین اویسی مسلسل پانچویں باراسمبلی الیکشن جیت گئے ہیں۔ اکبرالدین اویسی نے چندریان گٹا سیٹ سے شاندارجیت درج کی ہے، اس طرح سے وہ پانچویں بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ تلنگانہ کی 119 اسمبلی سیٹوں میں سے آٹھ سیٹوں پرمجلس اتحاد المسلمین نے امیدواراتارے تھے، جس میں 7 امیدواروں کے جیتنے کا امکان ہے۔


مجلس اتحاد المسلمین کے 4 امیدواراب تک فاتح قراردیئے جاچکے ہیں جبکہ 3 امیدوارسبقت بنائے ہوئے ہیں اوران کے جیتنے کا امکان ہے۔ حالانکہ مجلس اتحاد المسلمین نے اس بار8 امیدوارانتخابی میدان میں اتارے تھے، جس میں ایک امیدوارکو شکست کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ تلنگانہ میں ٹی آرایس واضح اکثریت کے ساتھ اپنے دم پردوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔


اکبرالدین اویسی متنازعہ بیان دینے کے سبب کئی بارسرخیوں میں رہتے ہیں، لیکن موجودہ بحث ان کے مسلسل پانچویں جیت کو لے کرہورہی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب الیکشن کے دوران انہوں نے حدیں توڑتے ہوئے وزیراعظم نریندرمودی کے لئے غلط الفاظ کا استعمال کردیا تھا۔


ویسے حال ہی میں جذباتی تقریرکرنے، دو فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کو ختم کرنے اورحکومت کے خلاف جنگ چھیڑنے کے الزام میں تین ایف آئی آردرج کی گئی ہیں۔ اویسی آندھرا پردیش اسمبلی الیکشن میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کے ممبراسمبلی ہیں اورپارٹی کے ایوان میں لیڈر ہیں۔ وہ پارٹی کے سب سے عظیم لیڈرمرحوم سلطان صلاح الدین اویسی کے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی اسد الدین اویسی حیدرآباد سے پارٹی کے ممبرپارلیمنٹ ہیں۔

اکبرالدین اویسی نے 2007 میں فتویٰ جاری کیا تھا کہ اگر سلمان رشدی اورتسلیمہ نسرین (گستاخ رسول) کبھی حیدرآباد آتے ہیں تو ان کی گردن کاٹ دی جائے۔ جنوری 2013 میں پولیس میں ان کے خلاف تین ایف آئی آر درج کی تھیں۔ 42 سالہ مسلم رہنما اکبرالدین اویسی چندریان گٹا، حیدرآباد سے پارٹی کے 1999 میں پہلی بارممبراسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان کے اہل خانہ میں ان کی بیوی شبینہ فرزانہ ہیں اوروہ ایک بیٹے اورایک بیٹی کے والد ہیں۔ اکبرالدین اویسی ان کے والد کے ذریعہ مسلمانوں کے فلاح وبہبود کے لئے بنائے گئے اویسی اسپتال کے منیجنگ ڈائریکٹربھی ہیں۔

ناصرحسین کی رپورٹ
First published: Dec 11, 2018 05:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading