اپنا ضلع منتخب کریں۔

    دہلی شراب گھوٹالہ: تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کی بیٹی کو سی بی آئی نے جاری کیا نیا سمن

    دہلی شراب گھوٹالہ: تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کی بیٹی کو سی بی آئی نے جاری کیا نیا سمن ۔ فائل فوٹو ۔

    دہلی شراب گھوٹالہ: تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر کی بیٹی کو سی بی آئی نے جاری کیا نیا سمن ۔ فائل فوٹو ۔

    Delhi Excise Case: دہلی آبکاری گھوٹالہ معاملہ کی جانچ کررہی سی بی آئی نے منگل کو تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کی بیٹی اور تلنگانہ راشٹریہ سمیٹی کی قانون ساز کونسل کی ممبر کے کویتا کو پھر سے گیارہ دسمبر کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Telangana | Hyderabad
    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی آبکاری گھوٹالہ معاملہ کی جانچ کررہی سی بی آئی نے منگل کو تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کی بیٹی اور تلنگانہ راشٹریہ سمیٹی کی قانون ساز کونسل کی ممبر کے کویتا کو پھر سے گیارہ دسمبر کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا ہے ۔ سمجھا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راو کی بیٹی نے پوچھ گچھ کو منگل سے 11۔ 15 دسمبر کے درمیان کسی بھی تاریخ تک ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی ، جس کیلئے ایجنسی نے اپنی رضامندی دیدی ہے ۔

      اس سے پہلے مرکزی ایجنسی نے کویتا کو چھ دسمبر کو پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تھا ۔ سی بی آئی نے کویتا کو سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت دو دسمبر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چھ دسمبر کو دن کے گیارہ بجے پوچھ گچھ کیلئے اپنی سہولت کے مطابق مناسب جگہ کے بارے میں بتانے کیلئے کہا تھا ۔

      یہ بھی پڑھئے: کسی کو بھوکا نہیں سونا چاہئے، آخری شخص تک اناج پہنچے یہ سرکار کی ذمہ داری: سپریم کورٹ


      یہ بھی پڑھئے: کوئی مسلم نہیں پھر بھی ہوتی ہے 5 وقت کی اذان! جانئے کیسے قومی اتحاد کی مثال بنا یہ گاوں؟


      کویتا کو بھیجے گئے نوٹس میں سی بی آئی نے کہا تھا کہ دہلی آبکاری گھوٹالہ معاملہ کی جانچ کے دوران کچھ حقائق سامنے آئے ہیں، جن سے آپ (کویتا) واقف ہوسکتی ہیں، اس لئے جانچ کے مفاد میں ایسے حقائق کو لے کر آپ سے پوچھ گچھ ضروری ہے ۔

      دہلی شراب گھوٹالہ میں مبینہ طور پر رشوت لینے کے معاملہ میں دہلی کی ایک عدالت میں ای ڈی کے ذریعہ دائر ریمانڈ رپورٹ میں کے کویتا کا نام آنے کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی جانچ کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: