உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Telangana News: کے سی آر کے جھوٹے وعدوں سے صحافی بھی محفوظ نہیں، تلنگانہ میں اردو صحافیوں میں شدید نا انصافی: غوث محی الدین

    تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر ۔ Photo: @TelanganaCMO, Twitter

    تلنگانہ کے وزیر اعلی کے سی آر ۔ Photo: @TelanganaCMO, Twitter

    Telangana News:جنرل سکریٹری تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن سید غوث محی الدین نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ وزیر اعلی تلنگانہ کے چندرا شیکھر راو کے جھوٹے وعدوں سے تلنگانہ کی صحافت اور صحافی بھی محفوظ نھیں رہے۔

    • Share this:
      حیدرآباد : جنرل سکریٹری تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن سید غوث محی الدین نے اپنے صحافتی بیان میں کہا کہ وزیر اعلی تلنگانہ کے چندرا شیکھر راو کے جھوٹے وعدوں سے تلنگانہ کی صحافت اور صحافی بھی محفوظ نھیں رہے۔ تلنگانہ میں سرکاری اشتہارات کی تیلگو اخبارات کو جاری کئے جانے سے ان کی اردو سے محبت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کے سی آر نے اقتدار میں آنے کی صورت میں ریاست کے تمام ورکنگ جرنلسٹس کو اکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا اور آج حقیقت یہ ہیکہ ورکنگ جرنلسٹ کو اکریڈیٹیشن کارڈ ملنا کوہ ہمالیہ سر کرنے کے مماثل ہو گیا ہے۔ چھوٹے اخبارات، رسائل اور نیوز ایجنسیز حکومت کی سرد مہری اور لاپرواہی کا شکار ہیں۔ چھوٹے اخبارات کو سابق کی ہر حکومت نے سرکاری اشتہارات پابندی کے ساتھ جاری کئے تھے لیکن کے سی آر حکومت اشتہارات جاری کرنے میں چھوٹے اخبارات کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔

      تلنگانہ حکومت نے سال 2016 میں ریاست کے صحافیوں کو اکریڈیٹیشن کارڈ جاری کرنے کے لیے ضوابط اور رہنمایانہ خطوط جی او نمبر 239 جاری کیا تھا۔ اس جی او کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اردو صحافیوں کو ہوا۔ متحدہ ریاست اندھرا پردیش میں اردو صحافیوں کو تیلگو صحافیوں کے مماثل اکریڈیٹیشن کارڈ دیا جاتا تھا اور اردو تیلگو سب یکساں تھے، لیکن تلنگانہ حکومت نے جی او 239 جاری کرتے ہوے اکریڈیٹیشن کارڈ کو جاری کرنے میں اردو تیلگو کے درمیان تفریق پیدا کردی۔

      انہون نے مزید کہا کہ حکومت نے اردو صحافیوں کو منڈل سطح پر اکریڈیٹیشن کارڈ کی سہولت ختم کردی جبکہ تیلگو کے لیے یہ سہولت برقرار رکھی گئی۔ زبان کی بنیاد پر تفریق کرتے ہوئے اردو صحافیوں کے کارڈس کم کر دیے گئے۔ صحافیوں کو اکریڈیٹیشن کارڈ کی اجرائی کے لیے ضلعی اور ریاستی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ ان کمیٹیوں میں بھی اردو کی نمائندگی نھیں رکھی گئی۔ اردو ریاست کی دوسری سرکاری زبان ہے اور اس زبان کو سرکاری کمیٹی میں نمائندگی نھیں ہے۔ میڈیا اکریڈیٹیشن کمیٹی میں تین اسوسی ایشنس کے علاوہ چھوٹے اخبارات اسوسی ایشن، الکٹرانک میڈیا جرنلسٹس، فوٹو جرنلسٹس اور ویڈیو جرنلسٹس کو نمائندگی دی گئی صرف اردو کو شامل نھیں کیا گیا۔ اس سے اردو سے متعلق حکومت کی سنجیدگی اور نیک نیتی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : کیرالہ کے ہم جنس پرست جوڑے کو ہائی کورٹ سے ملی بڑی کامیابی، کیا ہے وجہ؟


      اردو صحافیوں سے کی گئی اس نا انصافی کے خلاف تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے چیف منسٹرز آفس، وزیر بلدی نظم و اما راو، ونسق کے ٹی رزیر داخلہ محمد محمود علی، ایم ایل سی کے کویتا، چیئرمین میڈیا اکیڈمی الم نارائنا اور کمشنر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈپارٹمنٹ سے متعدد مرتبہ نمائندگی کی گئی کہ ریاست تلنگانہ کا دوسرا سب سے بڑا میڈیا اردو کو بھی میڈیا اکریڈیٹیشن کمیٹی میں شامل کیا جائے۔ فیڈریشن مسلسل دو سال دفاتر کا چکر کاٹتی رہی مگر صرف مثبت کاروائی کے وعدہ ملتے رہے اور عمل ندارد، اور کمیٹی میں اردو زمرہ کا اضافہ نھیں کیا گیا۔

      فیڈریشن اسد الدین اویسی کی شُکر گزار ہے کہ انھوں نے اس مسئلہ پر فیڈریشن سے بھر پور تعاون کیا اور کمشنر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز ڈہارٹمنٹ سے کئی مرتبہ فون پر بات کی۔ اردو کو صرف کمشنر آفیس سطح پر نہیں بلکہ اضلاع میں بھی سوتیلا سلوک کا سامنا ہے۔ ڈسٹرکٹ میڈیا اکریڈیٹیشن کمیٹی میں ایک رکن کو ضلع کلکٹر نامزد کرسکتا ہے۔ بیشتر اضلاع کے اردو صحافیوں نے کلکٹر کی جانب سے نامزدگی والے زمرہ میں درخواست دی لیکن اس زمرہ میں بھی اردو سے انصاف نھیں ہوا۔ بھلا ہو ٹی یو ڈبلیو جے ( آئ جے یو) اور اسمال نیوز پیپرس اسوسی یشن کا کہ انھوں نے چند اردو یا مسلم صحافیوں کو اپنا نمائندہ بناکر کمیٹی میں شامل کروایا ورنہ حکومت نے اردو کا صفایا ہی کردیا تھا۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ای وی گاڑیوں کو آگ لگنے کے واقعات، جلد ہی BIS معیارات پر عمل کرنا ہوگا ضروری


      انہوں نے کہا کہ اس سال اکریڈیٹیشن کی اجرائی کے لیے نیوز ایجینسیز کو اپنے دستاویز داخل کرنے صرف ایک دن کا وقت دیا گیا اس میں توسیع کے لیے تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی جانب سے درخواست دی گئی جس کے نتیجہ میں آئی اینڈ پی آر ڈپارٹمنٹ نے فارم داخل کرنے کی آخری تاریخ میں 10 جون تک کے لئے توسیع کر دی ہے۔ مگر یہ بات حقیقت سے بعید نہیں کہ سب کو اکریڈیٹیشن کارڈ دینے کا وعدہ کرنے والے شخص کی حکومت میں اکریڈیٹیشن کا حصول جُوئے شِیر لانے سے کم نہیں رہ گیا۔ تلنگانہ میڈیا اکیڈمی( پریس اکیڈمی) نے بھی اردو صحافت کو نظر انداز کرنے میں کوئی کسر باقی نھیں رکھی۔ تیلگو صحافیوں کے لیے تربیتی کیمپ منعقد ہوتے ہیں اور اردو تربیتی کیمپ منعقد کرنے بجٹ کی کمی کا بہانہ ہوتا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ہیلتھ کارڈس دیے گئے جو بیشتر کارپورٹ اور خانگی دواخانوں میں قبول نھیں کئے جا رہے ہیں۔ صحافیوں کو ڈبل بیڈ روم مکان اور پلاٹ کا وعدہ وفا ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔   ٹی آر ایس دور اقتدار میں اردو صحافی نا انصافی کا شکار ہیں، حکومت اپنی آنکھ کھولے اور کم از کم اب تو انصاف کرے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: