உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Telangana Budget 2022: تلنگانہ میں جملہ 2.56 لاکھ کروڑ کا جمبو بجٹ پیش، جانیے مکمل تفصیلات

    ہریش راؤ نے نشاندہی کی کہ مرکز ترقی پسند ریاستوں کو ترغیب دینے کے بجائے دراصل ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک ریاست کی تشکیل کے پہلے دن سے شروع ہوا، جس کی شروعات کھمم ضلع کے سات منڈلوں کے آندھرا پردیش کے ساتھ انضمام سے ہوئی۔ ریاست کی تنظیم نو کے ایکٹ میں کیے گئے وعدے بھی ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

    ہریش راؤ نے نشاندہی کی کہ مرکز ترقی پسند ریاستوں کو ترغیب دینے کے بجائے دراصل ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک ریاست کی تشکیل کے پہلے دن سے شروع ہوا، جس کی شروعات کھمم ضلع کے سات منڈلوں کے آندھرا پردیش کے ساتھ انضمام سے ہوئی۔ ریاست کی تنظیم نو کے ایکٹ میں کیے گئے وعدے بھی ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

    ہریش راؤ نے نشاندہی کی کہ مرکز ترقی پسند ریاستوں کو ترغیب دینے کے بجائے دراصل ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک ریاست کی تشکیل کے پہلے دن سے شروع ہوا، جس کی شروعات کھمم ضلع کے سات منڈلوں کے آندھرا پردیش کے ساتھ انضمام سے ہوئی۔ ریاست کی تنظیم نو کے ایکٹ میں کیے گئے وعدے بھی ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

    • Share this:
      پیر (7 مارچ 2022) کو تلنگانہ کے وزیر خزانہ ٹی ہریش راؤ (T Harish Rao) کی طرف سے قانون ساز اسمبلی میں تلنگانہ کا بجٹ پیش کیا گیا۔ حکومتی دعویٰ کے مطابق یہ مضبوط اعداد و شمار اور خوش گن الفاظ کا مرکب ہے۔ جس میں مرکز کو آئین میں شامل کوآپریٹو فیڈرلزم کی ڈھٹائی سے مخالفت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کا تلنگانہ پر بڑا شکار پڑا ہے۔

      سال 23-2022 کے لیے 2,56,958 کروڑ روپے کے اخراجات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ پچھلے سال کے نظرثانی شدہ 2.09 لاکھ کروڑ روپے کے مقابلے میں 22 فیصد کا اضافہ ہے۔ ہریش راؤ نے غیر مددگار ہونے کے باوجود پچھلے آٹھ سال میں تلنگانہ کی ترقی کے بارے میں بتایا ہے۔ انھوں نے مرکز کی جانب سے عدم تعاون پر بھی تنقید کی ہے۔

      خوش کن بات یہ ہے کہ بجٹ ریاست کے اپنے ٹیکس ریونیو (SOTR) میں صحت مند ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ سال 21-2022 میں جملہ 92,910 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1.08 لاکھ کروڑ روپے تک 16 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہے۔ SOTR بجٹ کے ایک اہم جز کے طور پر اہمیت حاصل کرتا ہے۔ بہر حال اس کو جس طرح بھی دیکھا جائے، بجٹ کا مقصد دیہی معیشت کی طرف متوقع جھکاؤ کے ساتھ متوازن نمو ہے جو پنچایت راج، زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص کیے جانے اور طبی اور صحت کے شعبے سمیت بنیادی ڈھانچے کے لیے درکار مالی مدد سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہریش راؤ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ ’’بجٹ غریبوں کی زندگیوں کو بدلنے کے لیے ہے اور اس میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا نشان ہے‘‘۔

      Telangana Budget 2022: تلنگانہ کےتمام اضلاع میں میڈیکل کالجس کےقیام کااعلان، کب ہوگی عمل آواری؟ جانیے تفصیلات



      پارلیمنٹ میں اپنے حالیہ بجٹ کی پیشکشی کے پس منظر میں بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ تلنگانہ ترقی کے ٹرکل ڈاون نظریہ پر یقین نہیں رکھتا ہے۔ یہ بڑی کارپوریشنوں کے مفادات کے تحفظ میں یقین نہیں رکھتا۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ریاست بننے کے بعد بھی امتیازی سلوک کا شکار رہی ہے۔ مشترکہ ریاست میں ہم نے اس وقت کے حکمرانوں کے ہاتھوں نقصان اٹھایا اور اب ہم مرکز کی طرف سے اسی طرح کے امتیازی سلوک کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

      Microsoft: مائیکروسافٹ کا حیدرآباد میں ڈیٹا سینٹر ریجن ہوگا قائم، 15,000 کروڑکی ہوگی سرمایہ کاری



      ہریش راؤ نے نشاندہی کی کہ مرکز ترقی پسند ریاستوں کو ترغیب دینے کے بجائے دراصل ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تلنگانہ کے ساتھ امتیازی سلوک ریاست کی تشکیل کے پہلے دن سے شروع ہوا، جس کی شروعات کھمم ضلع کے سات منڈلوں کے آندھرا پردیش کے ساتھ انضمام سے ہوئی۔ ریاست کی تنظیم نو کے ایکٹ میں کیے گئے وعدے بھی ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔

      ہریش راؤ نے کہا کہ گویا یہ کافی نہیں ہے۔ جب بھی ریاست تلنگانہ کی تشکیل پر بحث ہوتی ہے، مرکزی وزرا ’بچے کو بچانے کے لیے ماں کو مارنے‘ جیسے تبصرے کرتے ہیں جو کہ تلنگانہ کے لوگوں کی توہین کے سوا کچھ نہیں ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: