உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Hyderabad: ’سکیولرزم کے تحفظ، سماجی انصاف و فرقہ واریت کے خلاف اردو صحافت کا مجاہدانہ رول‘

    آخر میں محمد امجد علی جوائنٹ سکریٹری نے شکریہ ادا کیا۔

    آخر میں محمد امجد علی جوائنٹ سکریٹری نے شکریہ ادا کیا۔

    بیرسٹر اسد الدین اویسی 24 جولائی بروز اتوار کو میڈیا پلس آڈیٹوریم‘ گن فاؤنڈری، حیدرآباد میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن (Telangana Urdu Working Journalists Federation) کے زیر اہتمام اردو صحافت کے دوسوسال کے سلسلہ میں ’’جشن اردو صحافت۔ چندر سریواستو کے نام‘‘ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کیا۔

    • Share this:
      کل ہند مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر و رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) نے آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد اردو صحافت (Urdu Journalism) کے موقف اور صحافیوں کے حالات و مسائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اتحاد‘ یکجہتی و سالمیت کی بقا اور استحکام کے لئے اردو صحافت کا رول آج بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا ہم ملک کی آزادی کا 75سالہ جشن منا رہے ہیں اور آج جو نئے مسائل اور چیالنجس درپیش ہیں ان کا موثر طور پر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

      بیرسٹر اسد الدین اویسی 24 جولائی بروز اتوار کو میڈیا پلس آڈیٹوریم‘ گن فاؤنڈری، حیدرآباد میں تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن (Telangana Urdu Working Journalists Federation) کے زیر اہتمام اردو صحافت کے دوسوسال کے سلسلہ میں ’’جشن اردو صحافت۔ چندر سریواستو کے نام‘‘ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کیا۔

      تحریک آزادی میں اردو صحافت کا کردار:

      انہو ں نے کہا کہ آزادی کی تحریک میں اردو صحافت نے اہم رول ادا کیا ’لیکن جو لوگ اس لڑائی میں انگلی بھی نہیں کٹوائی وہ آج آزادی کے ہیرو بنے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن نے ان کو اردو صحافیوں کے مسائل کے تعلق سے جو یادداشت پیش کی ہے وہ اسے حکومت سے رجوع کرچکے ہیں۔ میڈیا اکیڈیمی کی صدارت کے لئے اردو صحافی کے تقرر کے علاوہ سرکاری زبان کمیشن‘ پبلک سروس کمیشن وغیرہ میں اردو کے نمائندوں کے تقرر کے معاملہ میں بھی انہوں نے چیف منسٹر سے بات کرنے کا تیقن دیا۔

      ممتاز صحیفہ نگار چندر سریواستو (Chandra Srivastav) نے کہا کہ ملک میں سکیولرزم‘ فرقہ وارانہ اتحاد و یکجہتی کو شدید خطرہ لاحق ہے‘ اس رجحان کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ ملک میں 70فیصد سکیولر مزاج اور انصاف پسند ہیں‘ جنوبی ہند میں فرقہ وارانہ اتحاد و یکجہتی کے لئے بہت ساز گار ہے۔ یہاں فرقہ پرست قوتوں کا داخلہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے طویل صحافی سفر کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کئی اہم واقعات کا ذکر کیا‘ اور بتایا کہ علیحدہ تلنگانہ کی تحریک سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ یہ جرنلسٹوں نے شروع کی تھی۔ اس تحریک کے لئے جذبہ انہیں اسمبلی کے کوریج کے دوران ملا جب وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا گیا کہ قواعد کے اعتبار سے تلنگانہ کے لئے محفوظ سرکاری جائیدادوں میں سے 33,500 جائیدادوں پر آندھرا والوں کا قبضہ ہے‘ اور تلنگانہ کی ترقی کے لئے جو بجٹ مختص کیا گیا ہے اس کا 42فیصد حصہ آندھرا میں خرچ کردیا گیا ہے۔ اس نا انصافی کے خلاف انہو ں نے چند مختص صحافیوں کے ساتھ مل کر جد وجہد شروع کی۔

      چندر سریواستو کی خدمات کو خراج تحسین:

      انہوں نے اردو تحریک‘ اس کے پس منظر اور اس کے نتائج کا بھی تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ اردو کو دوسری سرکاری زبان بنایا گیا ہے‘ لیکن یہ بیکار اور غیر فائدہ مند ہے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے ایک پیام روانہ کرتے ہوئے فیڈریشن کو مبارک باد پیش کی‘ اور چندر سریواستو کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ یہ پیام ریاض احمد خازن فیڈریشن نے پڑھ کر سنایا۔

      عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست (Siasat) نے کہا کہ اردو زبان کو غیر ضروری طور پر مسلمانوں کی زبان کہا جارہا ہے۔ ملک میں مسلمانوں پر مظالم اور ان کے ساتھ نا انصافیاں بڑھ گئی ہیں‘ جس کے خلاف مسلمانوں کو آواز بلند کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی پر پابندی کا دور ہے۔پہلے اخبارات میں سچ لکھنے پر پابندی لگائی کی گئی‘ جس کے بعد الکٹرانک میڈیا اور سوشیل میڈیا پر بھی تحدیدات عائید کرنے کی کوششیں کی جارہی ہی‘ کیونکہ بیشتر حق پسند صحافیوں نے اخبارات سے قطع تعلق کرتے ہوئے اپنے بلاگ اور یو ٹیوب چینل شروع کرتے ہوئے حقایق کو سامنے لارہے ہیں۔

      اس موقعہ پر فیڈریشن کے لوگو کی رسم اجرا انجام دی گئی۔
      اس موقعہ پر فیڈریشن کے لوگو کی رسم اجرا انجام دی گئی۔


      انہوں نے مرکزی وزارت اطلاعات کی جانب سے دہلی میں طلب کئے گئے اردو صحافیوں کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں اردو صحافیوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ حکومت کے اقدامات کو نمایاں طور پر پیش کریں‘ جس پر انہوں نے دو ٹوک لہجہ میں کہا کہ حکومت کے تمام اقدامات‘ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے تمام بیانات کو نمایاں اہمیت کے ساتھ شائع کرتے ہیں‘ لیکن ساتھ ہی اردو صحافت کو یہ سوال اٹھانے کا بھی موقعہ دیا جانا چاہئے کہ جس طرح مسلمانوں کے مکانات کو بلڈوزر سے مسمار کیا گیا تو کیا اگنی پتھ اسکیم کے خلاف تشدد کرنے اور ٹرینوں کو نذر آتش کرنے والوں کے گھروں پر بھی بلڈوزر چلایا جائے گا؟ انہو ں نے کہا تمام مظالم کے باوجود مسلمان ہندوستان چھوڑ کر جانے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو مادری زبان ہے اور اس کا ماں کی طرح احترام کرنا چاہئے۔

      غیر مسلم اردو صحافت سے وابستہ:

      ظفر جاوید سکریٹری سلطان العلوم ایجوکیشن سوسائٹی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ اردو کے پہلے صحافی ہری دت رائے سے لے کر کل دیپ نیر تک اور یدھ ویر جی سے لے کر رامو جی راؤ تک کی غیر مسلم اردو صحافت سے وابستہ رہے ہیں‘ انہو ں نے سماجی فلاح و بہبود کے کاموں میں اردو صحافت کے رول کو بھی خراج پیش کیا۔ انہوں نے کہا ارباب اقتدار کی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف ہمت و استقلال کے ساتھ آواز اٹھاتے ہیں‘ اور یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔

      کے سرینواس ریڈی صدر انڈین جرنلسٹس یونین نے چندر سریواستو کی دیرینہ خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت وہ صحافت میں داخل ہوئے اس وقت سریواستو بام عروج پر تھے۔ جب بھی تلنگانہ تحریک کا ذکر ہوتا ہے تو چندر سریواستو کی یاد آنا لازمی ہے۔

      اردو زبان کی ترقی‘ ترویج و اشاعت:

      عزیز احمد جوائنٹ ایڈیٹر روزنامہ اعتماد (Etemaad) نے چندر سریواستو کی صحافتی و سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ محمد سلیم صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی نے چندر سریواستو کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اردو زبان کی ترقی‘ ترویج و اشاعت کے لئے متحدہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلمانو ں کے لئے اردو زبان کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ قرأن کو سمجھنے کے لئے اردو پڑھنا اور سیکھنا ضروری ہے۔

      مزید پڑھیں: تعلیم کےساتھ تربیت پربھی زور، حیدرآباد میں ویل کیئرانڈیاسوشل ویلفیئرفاؤنڈیشن (WISWF) کاآغاز

      ڈاکٹر ناصر علی خان اعزازی قونصل جمہوریہ قازقستان نے فیڈریشن کی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے ان کے تعاون کا تیقن دیا اور اردو صحافیوں کے ایک وفد کے دورہ قازقستان کا اہتمام کرنے کا وعد ہ کیا۔ شوکت علی خان نے چندر سریواستو کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ وہ تلنگانہ تحریک اور اردو تحریک کے بانی تھے‘ جو تاریخی تحریکیں تھیں‘ لیکن انہوں نے صحافت سے کوئی مالی فائیدہ نہیں اٹھایا۔ ان کی خدمات کاکوئی صلہ تو نہیں ہوسکتا لیکن حکومت سے نمائندگی کی جائے کہ ان کے نام کم از کم 500گز کا پلاٹ الاٹ کیا جائے۔ جلسہ کا آغاز مفتی قاری زبیر محمود کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ فیڈریشن کے صدر ایم اے ماجد نے خیر مقدم کیا۔ جنرل سکریٹری سید غوث محی الدین نے رپورٹ پیش کی۔ آخر میں محمد امجد علی جوائنٹ سکریٹری نے شکریہ ادا کیا۔

      مزید پڑھیں: NEET UG 2022:دیڑھ لاکھ میڈیکل سیٹوں کے لئے18لاکھ دعویدار، اتوار کو ہوگا نیٹ امتحان، جانیے ضروری احکامات


      اس موقعہ پر فیڈریشن کے لوگو کی رسم اجرا انجام دی گئی۔ اس موقعہ پر فاضل حسین پرویز ایڈیٹر گواہ‘ اطہر معین ایکزیکٹیو ایڈیٹر روزنامہ منصف‘ فہیم الدین ترک رہنمائے دکن‘ صلاح الدین نیّر ایڈیٹر خوشبو کا سفر‘ ڈاکٹر اشرف علی (ریاض)‘ باسط ابو معاذ (سعودی عرب) اور دیگر معززین موجود تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: