உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کے موجودہ حالات اتفاقیہ نہیں منصوبہ بند:ایس ڈی پی آئی

    گلبرگہ۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی جانب سےفرقہ وارانہ دہشت گردی کے موضوع پر منعقدہ سمینار میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    گلبرگہ۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی جانب سےفرقہ وارانہ دہشت گردی کے موضوع پر منعقدہ سمینار میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    گلبرگہ۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی جانب سےفرقہ وارانہ دہشت گردی کے موضوع پر منعقدہ سمینار میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      گلبرگہ۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کی جانب سےفرقہ وارانہ دہشت گردی کے موضوع پر منعقدہ سمینار میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔  مقررین نے سیکولر طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے پر زور دیا ۔ مقررین نے کہا کہ 2014 کا الیکشن اپنے پیچھے کئی ایک سوال چھوڑ گیا ہے جس کو حل کرنے کیلئے تمام سیکولر طاقتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ ملک  کے سرکاری کام کاج میں آر ایس ایس کے  بڑھتے عمل دخل پر بھی سمینار میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ایس ڈی پی آئی کی جانب سے قومی سطح پر شروع کی گئی مہم’’ ٹھہرو گھٹنوں کے بل‘‘ کے تحت اس سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا۔


       سماجی ماہرین ، مفکرین اور مسلم رہنماوں کا کہنا ہے کہ آج ملک میں جس طرح سے حالات   ہیں وہ  اتفاقیہ نہیں ہیں بلکہ منصوبہ بند ہیں۔ آ ر ایس ایس اور اسکی ذیلی تنظمیں جس طرح سے سیکولر عوام  کو بھٹکا رہیہیں  اسکا تدارک کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ آج بھی ملک کی دو تہا ئی سے زائد اکثریت کا مزاج سیکولر ہے  لیکن  یہ ایک تہائی منتشر ہے اس کو جوڑنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے  بائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کی  چالوں کو سمجھنے پر  بھی زور دیا جس  کی  بنا پر وہ اقتدار پر قبضہ کر رہی ہیں۔


      مقررین نے  کہا کہ آرایس ایس ایک جانب ہندوستان کے تمام شہریوں کو برابر کا شہری تسلیم کرنے کی بات کرتا ہے تو دوسری جانب  برہمن واد جیسے اصولوں کے ذریعے دلتوں کو جھکانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔آر ایس ایس کے دو چہرے ہیں ، ایک کہتا ہے کہ بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی و بھائی چارہ رہنا چاہئے۔ دوسرا چہرہ کہتا ہے کہ  اسے  ہندو راشٹر  بننا چاہئے۔

      First published: