உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گولڈن ٹیمپل لینچنگ کے واقعہ سے ’انتخابی‘ پنجاب میں پھر ہوئی بے ادبی کی واپسی

    گولڈن ٹیمپل۔ فائل فوٹو

    گولڈن ٹیمپل۔ فائل فوٹو

    پنجاب کے وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے لگاتار تین ٹوئٹ کیے ہیں۔ اس میں انہوں نے کہا، ’شری ریہراس صاحب کے راستے میں شری ہرمیندر صاحب کے مقدس احاطے میں شری گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی کی کوشش کرنے کے لئے سب سے افسوسناک اور قابل مذہب کام کی سخت مذمت کی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پنجاب (Punjab) کے فرید کوٹ ضلع (Faridkot) کے بہبل کلاں میں بے ادبی (Sacrilege) اور اُس کے بعد پویس فائرنگ کے واقعات کے چھ سال بعد سکھ مذہب کے سب سے مقدس دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) میں ’بے ادبی‘ کرنے کے لئے ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالنے کے بعد بے ادبی انتخابی ریاست پنجاب میں پھر سے زیرگردش آگئی ہے۔ 2015 میں بے ادبی کے معاملے میں دو مظاہرین مارے گئے تھے اور یہ ایک اہم وجہ تھی جس کی وجہ سے 2017 کے پنجاب الیکشن میں سابق شیرومنی اکالی دل اور بی جے پی اتحاد کی شرمناک ہار ہوئی تھی۔

      پنجاب کے وزیراعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے لگاتار تین ٹوئٹ کیے ہیں۔ اس میں انہوں نے کہا، ’شری ریہراس صاحب کے راستے میں شری ہرمیندر صاحب کے مقدس احاطے میں شری گرو گرنتھ صاحب کی بے ادبی کی کوشش کرنے کے لئے سب سے افسوسناک اور قابل مذہب کام کی سخت مذمت کی اور ایس جی پی سی صدر کو فون کیا اور اس معاملے کی تہہ تک جانے کے لئے حکومت کے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔‘ اکالی دل کے نگراں کار اور پانچ مرتبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ رہ چکے پرکاش سنگھ بادل نے سچکھنڈ شری ہرمندر صاحب میں بے ادبی کرنے کے گھناونی کوشش کو چونکانے والاا ور بے حد دردناک بتایا ہے۔

      گہری سازش کا شک ظاہر کرتے ہوئے بادل سینئر نے کہا کہ جرم لفظوں کے لئے قابل مذمت تھا اور اس نے پوری دنیا میں سکھ طبقے کے من میں گہری تکلیف اور غصہ پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غیر یقینی ہے کہ ایک شخص کی جانب سے انسانیت کے سب سے مقدس مندر میں اتنا دردناک اور بے رحم جرم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری سازش کی جانچ کر کے پردہ فاش کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے پیچھے کے ذمہ دار لوگوں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔

      بادل کے بیٹے اور شیرومنی اکالی کے صدر سکبھیر سنگھ بادل نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ، ’یہ یقین کرنا ممکن نہیں ہے کہ یہ صرف ایک شخص کی حرکت ہوسکتی ہے۔ اس کے پیچھے صاف طور پر گہری سازش ہے۔‘

      ریاستی حکومت پر جم کر تنقید کرتے ہوئے سکھبیر نے کہا، ’اس طرح کی سازش کے مضبوط اشارے ملے ہیں۔ اُسی دن مقدس سرور میں گٹکا صاحب کو پھینکے جانے کا ایک چونکانے والا واقعہ ہوا۔ اس کے بعد ریاست کی ایجنسیاں ایک گہری سازش سے انجان نہیں ہوسکتی تھیں، جس کی وجہ سے آج کے واقعات کو چونکانے والا کام ہوا۔

      سابق وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے اس واقعہ پر ٹوئٹ کیا، ’دربار صاحب میں شری گرو گرنتھ صاحب جی کی بے ادبی کی کوشش کا واقع قابل مذمت ہے۔ حکومت کو اس بات کی تہہ تک جانا چاہیے کہ اس آدمی نے اتنے گھناونے طریقے سے یہ کیسے کیا!‘

      پنجاب بی جے پی صدر اشونی شرما نے کہا، ’ہیہ سب سے گھناونا کام ہے۔ اس کی جانچ ہونی چاہیے۔‘ شرما نے پنجاب کی کانگریس حکومت پر بے ادبی کے پچھلے معاملوں میں کارروائی کرنے میں ناکام رہنے کا بھی الزام لگایا۔

      پنجاب میں سرگرمی سے تشہیر کررہے دلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے بے ادبی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا، ’ لوگ صدمے میں ہیں۔ یہ بہت بڑی سازش ہوسکتی ہے۔ قصورواروں کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے۔ ‘

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: