Choose Municipal Ward
    CLICK HERE FOR DETAILED RESULTS
    ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

    کرناٹک میں گؤکشی کا معاملہ پھر سامنے آیا، عید الاضحیٰ سے قبل چھوڑا یہ نیا شوشہ: جانیں پورا معاملہ

    کرناٹک میں بی جے پی کو بر سر اقتدار آئے اب ایک برس ہونے کو ہے۔ اس ایک برس کے دوران گؤ کشی کا معاملہ سامنے نہیں آیا، اب جب کہ بقر عید قریب ہے۔ بی جے پی حکومت کو گؤ رکشا کی یاد آئی ہے۔

    • Share this:
    کرناٹک میں گؤکشی کا معاملہ پھر سامنے آیا، عید الاضحیٰ سے قبل چھوڑا یہ نیا شوشہ: جانیں پورا معاملہ
    کرناٹک میں بی جے پی کو بر سر اقتدار آئے اب ایک برس ہونے کو ہے۔ اس ایک برس کے دوران گؤ کشی کا معاملہ سامنے نہیں آیا، اب جب کہ بقر عید قریب ہے۔ بی جے پی حکومت کو گؤ رکشا کی یاد آئی ہے۔

    کرناٹک کی سیاست میں گؤ کشی ایک پرانا موضوع ہے۔ وقفے وقفے سے بی جے پی اسے اپنے فائدے کیلئے استعمال کرتی رہی ہے۔ انتخابی منشور میں بھی بی جے پی گؤ کشی کو ہمیشہ نمایاں مقام دیتی رہی ہے۔ کرناٹک میں بی جے پی کو بر سر اقتدار آئے اب ایک برس ہونے کو ہے۔ اس ایک برس کے دوران گؤ کشی کا معاملہ سامنے نہیں آیا، اب جب کہ بقر عید قریب ہے۔ بی جے پی حکومت کو گؤ رکشا کی یاد آئی ہے۔ ریاستی وزیر مویشی پالن پربھو جوہان نے ایک بار پھر گؤ کشی پر مکمل پابندی کا شوشہ چھوڑا ہے۔ کمال کی بات یہ بھی ہے کہ پربھو چوہان ہی کرناٹک میں وزیر اقلیتی امور، حج و اوقاف بھی ہیں۔ ایک طرح سے مختار کل ہیں۔ ایک جانب انھیں جانوروں کا بھی پالن کرنا ہے اور اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہے۔


    پربھو چوہان کے مطابق ملک کی کئی ایک ریاستوں کی طرز پر یڈی یورپا حکومت گؤ کشی قانون بنانے پر غور کررہیہے۔ جس کے تحت گائے کی خرید و فروخت، گؤ کشی اور گوشت کھانے پر پابندی رہے گی۔ ذرائع کے مطابق کورونا بحران کے خاتمے کے بعد حکومت گؤ کشی کے معاملے پر ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے گی۔ ماہرین کی کمیٹی ضرورت پڑنے پرگجرات، یوپی اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں کا دورہ کر کے وہاں نافذ گؤ کشی قانون کا جائزہ لے گی۔


    کرناٹک میں 2008 میں بی جے پی پہلی بار مکمل طور پر بر سر اقتدار آئی تھی۔ جس کے بعد یدی یورپا کے ہی دور میں 2010 میں کرناٹک پرونشن آف سلاٹر اینڈ پرسرویشن آف کیٹل بل کو متعارف کرایا گیا تھا۔ سال 2012 میں ترمیمی بل کو متعارف کرایا تھا۔ 2010 کے بل کو صدر جمہوریہ نے ریاستی حکومت کو واپس کر دیا تھا۔، جبکہ 2012 کے ترمیمی بل کو اُسوقت کے ریاستی گورنر ہنس راج بھردواج نے منظوری نہیں دی تھی۔


    کرناٹک پرونشن آف سلاٹر اینڈ پرسرویشن آف کیٹل ترمیمی بل دوہزار بارہ میں اُ سوقت کی بی جے پی حکومت نے گائے کی تعریف کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں بیل کو بھی شامل کیا گیا تھا اور اس کو کاٹنے کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا تھا۔ دوہزار تیرہ میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اقتدار سے باہر ہوئی اور کانگریس بر سر اقتدار آئی۔ دسمبر 2014 میں بیلگام اسمبلی سیشن کے آخری دن سدرامیا حکومت نے کرناٹک پرونشن آف سلاٹر اینڈ پرسرویشن آف کیٹل بل 2010 اور ترمیمی بل دوہزار بارہ کو واپس لیا تھا۔ اُس وقت لیجسلیٹیو کونسل کے لیڈر آف اپوزیشن کے ایس ایشورپا نے ایوان بالا میں کہا تھا کہ بی جے پی جب بھی دوبارہ بر سر اقتدار آئے گی تو دوبارہ ان بلوں کو ایوانوں سے منظوری دلائے گی۔ اب چھ برس بعد بی جے پی حکومت پھر سے گؤ کشی کے معاملے کو اٹھانے جا رہی ہے۔ کرناٹک میں فی الحال کرناٹک پرونشن آف گؤ سلاٹر اینڈ کیٹل پر یزرویشن ایکٹ انیس سو چوسٹھ نافذ ہے۔ اس قانون کے تحت بھی گؤ کشی پر پابند ی ہے۔
    Published by: Sana Naeem
    First published: Jul 11, 2020 04:48 PM IST
    corona virus btn
    corona virus btn
    Loading