உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    News18India Chaupal: اومیکرون ویرینٹ کی جڑ کو پکڑنا ہے:کرناٹک کےCMبسواراج بوممئی

    کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسواراج بوممئی

    کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسواراج بوممئی

    بوممئی نے کہا۔ اومیکرون ویرینٹ کی جڑ کو پکڑنا ہے، جسے روکنے کے لئے فارین سے آرہے مسافروں پر نظر رکھنا اور اُن کا ٹسٹ کرنا ضروری ہے۔ ہم کو ٹسٹ کرنے کے بعد بھی سات دن کے لئے کورنٹین کرنا ضروری ہے، کیونکہ ایک آدمی کی وجہ سے ایک شہر یا ایک ریاست کے سبھی لوگوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک میں کورونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون (Omicron Variant) کے پہلے دو مریض کرناٹک میںملے ہیں۔ اسے لے کر نیوز18 انڈیا چوپال کے اسٹیج پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بوممئی (Basavaraj Bommai) نے کہا، اومیکرون ویرینٹ کے بنگلورو میں دو مشتبہ افراد ملے، جو جنوبی افریقہ سے آئے تھے۔ ان کی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا تھا۔ ہم پوری طرح سے تیار ہین۔ اومیکرون ویرینٹ سے طبعیت زیادہ نہیں بگڑ رہی، لیکن یہ ویرینٹ بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لئے چیلنج بڑا ہے۔

      بوممئی نے کہا۔ اومیکرون ویرینٹ کی جڑ کو پکڑنا ہے، جسے روکنے کے لئے فارین سے آرہے مسافروں پر نظر رکھنا اور اُن کا ٹسٹ کرنا ضروری ہے۔ ہم کو ٹسٹ کرنے کے بعد بھی سات دن کے لئے کورنٹین کرنا ضروری ہے، کیونکہ ایک آدمی کی وجہ سے ایک شہر یا ایک ریاست کے سبھی لوگوں کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

      ابھی 10 سے 12 ملکوں سے آنے والوں پر نظر ہے
      بسوراج بوممئی نے کہا، کتنے ملکوں سے آنے والوں کی جانچ کی جائے گی، یہ حالات پر نظر رکھنے کے بعد طئے ہوگا۔ ابھی 10 سے 12 ملکوں سے آنے والوں پر نظر ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر ایسے ملکوں کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر اور ہیلتھ ورکرس کو کورونا کا بوسٹر ڈوز لگانا چاہیے، کیونکہ اُن کو سب سے پہلے ویکسین لگی تھی اور 6 مہینے سے زیادہ وقت ویکسین لگا کر ہوچکا ہے، جبکہ نیا ویرینٹ بھی آگیا ہے، جس سے ہیلتھ ورکرس کی حفاظت کرنے کے لئے بوسٹر ڈوز پر غور کیا جارہا ہے، جس پر فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔


      ’میں کرناٹک میں فی کس آمدنی بڑھانا چاہتا ہوں‘
      کرناٹک کے وزیراعلیٰ بسواراج بوممئی نے کہا، وقت آگیا ہے کہ ہم سرمایہ کاری اور روزگار کے بارے میں سوچیں۔ میں سرمایہ کاری کو فروغ دے رہا ہوں، لیکن اُن کمپنیوں کو خصوصی ترغیب دی جائے گی جو زیادہ لوگوں کو روزگار دیں گی۔ میں کرناٹک میں فی کس آمدنی بڑھانا چاہتا ہوں، کیونکہ جی ڈی پی کی سطح اُسی سے بڑھے گی۔ انہوں نے کہا، کسانوں کے بچوں کے لئے کرناٹک میں اسکالرشپ اسکیم شروع کی گئی ہے۔ جب کسانوں کے بچے پڑھیں گے، تو کھیتی کے علاوہ دوسرے کام بھی کرپائیں گے اور اس سے اُن کی زندگی بہتر ہوگی۔

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: