ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

باورچی خانہ کی اہم چیز پیاز کی قیمتوں نے نکالے آنکھ سے آنسو، بارش سے متاثر تلنگانہ و حیدر آباد میں عوام کو مشکلات

عام آدمی کا کہنا ہے کہ پیاز کی قیمت میں اضافے نے جہاں ان کے لئے مشکل کھڑی کردی ہے وہیں پیاز کے بڑے خریدار بھی پر ان بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ پیاز فروخت کرنے والوں نے کہا کہ کرنول میں بارش سے پیاز خراب ہوئی ہے اور سائز میں بھی کمی ہوئی ہے۔

  • Share this:

یاز ہر گھر کے باورچی خانہ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے دام بڑھنے سے گھر چلانے کا بجٹ بڑھ گیا ہے۔ ایسے میں عام لوگ زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ حیدرآباد کے بازاروں میں پیاز کی کمی اور طلب میں اضافہ، موسمی صورتحال سے یہاں کے بازار بے اعتدالی کے شکار ہورہے ہیں۔ پیاز کے بغیر سالن کا تصور بھی محال ہے اور سالن کے بغیر پکوان مکمل نہیں ہے۔ پیاز کاٹنے سے آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں لیکن اب پیاز کی قیمت سن کر ہی آنکھ سے آنسو نکل رہے ہیں۔ بازاروں میں پیاز کی قیمتیں گزشتہ ڈھائی برس میں سب سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ اچھے معیار کی پیازکی قیمت 100 تا 110 روپئے تک پہنچ گئی ہے۔ غیر معیاری پیاز کی اوسط قیمت 60تا70 روپئے فی کلو درج کی گئی ہے۔ شہر حیدرآباد کی پیاز کی سب سے بڑی تھوک مارکیٹ محبوب گنج ملک پیٹ میں پیاز کے لوڈ کے ساتھ آنے والی لاریوں کی تعداد میں کافی کمی ہوگئی ہے۔ حیدرآباد وتلنگانہ کے اضلاع میں پیاز کی بڑی تعداد مہاراشٹرسے آتی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ پیاز مہاراشٹر میں ہی ہوتی ہے تاہم حالیہ بارش کی وجہ سے اس کی فصل کو نقصان پہنچا جس کے نتیجہ میں پیاز کی آمد میں کمی ہوگئی۔شہر حیدرآباد کے ریٹیل بازاروں میں پیاز کی قیمتوں میں اضافہ درج کیاگیاہے۔ ایک طرف موسم کی صورتحال تو دوسری طرف پیداوار میں کمی کے ساتھ ساتھ طلب میں اضافہ ہواہے۔ اس کاروبار سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ آئندہ دو ماہ میں نئی فصل کے انتظار تک اس کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہے گا۔قیمتوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے عوام اپنی جیب کی گنجائش و ضروریات کی حد تک ہی خریداری کر رہے ہیں۔


عام آدمی کا کہنا ہے کہ پیاز کی قیمت میں اضافے نے جہاں ان کے لئے مشکل کھڑی کردی ہے وہیں پیاز کے بڑے خریدار بھی پر ان بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ پیاز فروخت کرنے والوں نے کہا کہ کرنول میں بارش سے پیاز خراب ہوئی ہے اور سائز میں بھی کمی ہوئی ہے۔ تلنگانہ کے عہدیداروں نے کہا کہ پیاز کی نئی فصل آنے تک قیمتیں ایسی ہی برقرار رہیں گی۔ عوام نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ پیاز کی قیمتوں میں اضافہ سے انہیں مشکل کا سامنا ہے۔ قیمتوں میں حددرجہ اضافہ کی وجہ سے جہاں ایک طرف تمام پریشان ہیں۔ وہیں خاص طور پر متوسط اورغریب طبقہ پیاز خریدنے کیلئے سونچنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ اس دوارن شہر کی کئی ہوٹلوں میں بھی سلاد میں پیازکے متبادل کا استعمال کیاجارہا ہے۔ جاریہ ماہ کے اوائل سے اس کی قیمتوں میں بتدریج اضافہ شروع ہوگیا جو اب انتہا پر پہنچ گیاہے۔ یہ مسئلہ صرف شہر حیدرآباد نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں کا بھی ہے۔


شہر حیدرآباد میں مہاراشٹرا کے ناسک، شولا پور، اورنگ آباد،کرناٹک کے رائچور‘ شیوامکھا‘ مدھیہ پردیش کے بھوپال‘ آندھراپردیش کے کرنول سے پیازدرآمد کی جاتی ہے جب کہ ریاست تلنگانہ کے گدوال،ونپرتی،رنگاریڈی، وقارآباد، محبوب نگر‘کولہاپور‘سنگاریڈی‘ میدک‘ کاماریڈی اور سدی پیٹ میں پیازکی کاشت کی جاتی ہے۔ ریاست میں کاشت میں کمی کی وجہ سے روز مرہ کے استعمال میں شامل پیاز کیلئے تلنگانہ کا دارومدار دیگر ریاستوں کی درآمد پر منحصر ہوگیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ طلب میں اضافہ اور پیاز کی درآمد میں کمی کی وجہ سے اس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاستوں کے تاجرین کی جانب سے پیاز کی خریداری کیلئے کی جارہی مسابقت کو دیکھتے ہوئے اس کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان حالات میں طلب کے مطابق پیازکی درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اس کی اثر تلنگانہ میں بھی دیکھا جارہا ہے۔ پیاز کے تاجروں کے مطابق قیمتوں میں اضافہ یاکمی ان کے ہاتھ نہیں ہے۔ قیمتوں کاتعین پیازکے مطالبہ اور اس کی درآمد پر منحصر ہوتا ہے۔ پیازکے ہول سیل تاجرین کا کہنا ہے کہ جب تک پیاز کی درآمد میں اضافہ نہیں ہوتا اس کی قیمتوں میں کمی سے متعلق کچھ کہانہیں جاسکتا ہے۔ پیاز کی درآمدمیں جب اضافہ ہوتا ہے تو اس کی قیمت میں خود بخود کمی آجاتی ہے اورجب درآمد میں کمی ہوتی ہے تو قیمتوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ پیازکی قیمت میں اس حدتک اضافہ ہوچکا ہے کہ لوگ ضرورت کے مطابق پیاز خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ORANGE CAP:
شہر کی ریٹیل مارکیٹوں اورہول سیل مارکٹوں میں پیاز خریدنے کیلئے آنے والے افراد نے بتایا کہ پیاز کے بغیر پکوان نہیں کیا جاسکتا اس لئے یہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ خریدنا ضروری ہے۔ غریب افراد جو پیاز کی قیمتوں کی وجہ سے پریشان ہیں نے بتایا کہ انہوں نے اس کا استعمال کم کردیا ہے لیکن استعمال تو ضروری ہے۔ گذشتہ سال بھی پیاز کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ نے شہریوں کو پریشان کن صورتحال سے دوچارکردیا تھا۔اب بھی وہی صورتحال دیکھی جارہی ہے۔پیاز کی قیمتوں میں جب بھی بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے تو اس کے بعدکسان اپنی تمام تر توجہ اسی پرمرکوز کرتے ہیں جس کی وجہ سے پیازکی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اورنتیجہ میں اس کی قیمت انتہائی کم ہوجاتی ہے۔ اب جب کہ دسہرہ قریب ہے ابھی تک بھی پیاز کی قیمتوں میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔

اب آئیے جانتے ہیں ملک کے الگ الگ حصوں میں پیاز کا حال کیا ہے

کیرالہ

کیرالہ میں ایک ہفتہ پہلے تک 20 سے 25 روپے فی کلو کے حساب سے پیاز فروخت ہورہی تھی ، لیکن اب 75 روپے سے 90 روپے فی کلو کے حساب سے بک رہی ہے ۔ وہیں چھوٹے پیاز کی قیمت جو پہلے 70 سے 85 روپے کلو تھی ، جو اب 100 روپے کلو ہے ۔

آندھرا پردیش اور تلنگانہ

شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں سپلائی متاثر ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے پیاز کاروباریوں نے دام بڑھا دئے ہیں ۔ دونوں ریاستوں میں پیاز کی ریٹیل قیمتیں 100 روپے فی کلو ہیں جبکہ تھوک قیمت 70 سے 85 روپے فی کلو ہے ۔

آندھرا پردیش ریتو بازاروں کے ذریعہ کم قیمت پر 1000 ٹن پیاز بیچنے کی تیاری کررہا ہے ۔ مانسون سیزن کے دوران آندھرا پردیش کے 15 ہزار ایکڑ اور تلنگانہ کے 55 سو ایکڑ میں پیاز کی بوائی ہوئی تھی ، لیکن پیداوار اچھی نہیں ہوئی ۔

تمل ناڈو

تمل ناڈو میں ریٹیل بازار میں پیاز کی قیمت 100 فی کلو ہے ۔ تمل ناڈو حکومت اما فارم فریش کے ذریعہ کم قیمت پر پیاز فروخت کررہی ہے ۔ اما فارم فریش میں 45 روپے فی کلو کے دام سے پیاز مل رہی ہے ۔ پیاز کی وافر دستیابی کیلئے حکومت مصر اور ایران سے پیاز منگوا رہی ہے ۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب پیاز مصر سے منگوائی جارہی ہے ۔

مہاراشٹر

ناسک کے علاوہ دھولے ، پونے ، ستارا ، شولا پور علاقے میں بھی پیاز کی پیدوار ہوتی ہے ۔ ریاستوں کے ان تمام علاقوں میں اس مرتبہ زیادہ بارش کی وجہ سے پیاز کی فصل کو نقصان پہنچا ہے ۔

ناسک ضلع کے لاسل گاوں میں ملک کی سب سے بڑی پیاز منڈی ہے ۔ وہاں اس ہفتہ کی شروعات میں پیاز کی قیمت 7100 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی ۔ یہ دام گزشتہ ایک سال میں سب سے زیادہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں میں پیاز کے دام 100 روپے کو آسانی سے پار کرجائیں گے ۔ ابھی مہاراشٹر میں ریٹیل بازار میں 80 روپے کلو تک پیاز فروخت ہورہی ہے ۔

جانکار بتاتے ہیں کہ اس مرتبہ پیاز کی قیمتیں زیادہ وقت تک اور ریکارڈ دام تک عام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو لائیں گی ۔ اس کی وجہ پیاز کی پیداوار کرنے والے زیادہ تر علاقوں میں بارش کی مار کو بتایا جارہا ہے ۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ فروری میں نئی فصل آنے تک پیاز کے دام میں ریورس گیئر نہیں لگے گا ۔

کرناٹک

مہاراشٹر کے بعد کرناٹک ملک کی دوسری ریاست ہے ، جہاں پیاز کی پیدوارزیادہ ہوتی ہے ۔ بارش کی وجہ سے شمالی کرناٹک میں پیاز کی پوری فصل برباد ہوگئی ہے ۔ صرف بگلکوٹ میں ہی 90 ہزار ہیکٹیئر پیاز کی فصل برباد ہوگئی ہے ۔ افسران کے مطابق پورے کرناٹک میں تقریبا دو لاکھ ہیکٹیئر فصل برباد ہوگئی ہے ۔ ریاست کے ریٹیل مارکیٹ میں پیاز 80 سے 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے ۔

بہار اور جھارکھنڈ

بہار اور جھارکھنڈ میں پیاز مدھیہ پردیش سے آتا ہے ۔ مدھیہ پردیش کی منڈی میں پیاز 55 سو سے چھ ہزار روپے کوئٹل فروخت ہورہی ہے ۔ جس وجہ سے ان دونوں ریاستوں میں پیاز کی ریٹیل قیمت فی الحال 60 سے 70 روپے کلو ہے ۔ حالانکہ آنے والے دنوں میں یہ بڑھ سکتی ہے ۔ چونکہ بہار میں ابھی اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں ، اس لئے قیمتیں مزید بڑھنے پر یہ انتخابی ایشو بن سکتا ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں جب لالو یادو جیل سے باہر تھے ، تب انہوں نے پیاز اور دال کی بڑھتی قیمتوں کو انتخابی ایشو بنایا تھا ۔

ملک کے دیگر حصوں کا حال

اوڈیشہ میں ستمبر میں پیاز کا دام 30 سے 35 روپے فی کلو تھا جو اب بڑھ کر 70 سے 75 روپے فی کلو ہوگیا ہے ۔ اوڈیشہ ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے صدر سدھاکر پانڈا کے مطابق منڈی میں بازار دام 65 سو فی کوئنٹل ہے ۔ وہیں آسام میں فی الحال 60 سے 70 روپے کلو پیاز فروخت ہورہی ہے ۔

(ںیوز ایجنسی: یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ)
Published by: sana Naeem
First published: Oct 25, 2020 12:46 PM IST