ہوم » نیوز » وطن نامہ

بیٹے نے ماں سے پوچھا- بچہ پیٹ میں کیسے پہنچ جاتا ہے

ممی اور پاپا دونوں کے پاس ایک ایک بیج ہے۔ پاپا کا بیج ممی کے جسم میں چلا جاتا ہے اور وہ ممی کے بیج سے مل جاتا ہے، جو پہلے سے ممی کے جسم میں ہوتا ہی ہے۔

  • Share this:
بیٹے نے ماں سے پوچھا- بچہ پیٹ میں کیسے پہنچ جاتا ہے
بیٹے نے ماں سے پوچھا- بچہ پیٹ میں کیسے پہنچ جاتا ہے

ہمارا دوسرا بچہ آنے والا ہے اور ایک دن پانچ سال کے میرے بیٹے نے پوچھا کہ بچے ماں کے پیٹ میں کیسے پہنچ جاتے ہیں اور وہ کیسے باہر آجاتے ہیں؟ میں لاجواب ہوگئی، برائے مہربانی میری مدد کریں۔


اس سوال کا جواب سوال پوچھنے والے بچے کی عمر پر منحصر کرتا ہے۔ سب سے بنیادی سطح پر آپ کا جواب کچھ اس طرح سے ہوسکتا ہے۔ ممی اور پاپا دونوں کے پاس ایک ایک بیج ہے۔ پاپا کا بیج ممی کے جسم میں چلا جاتا ہے اور وہ ممی کے بیج سے مل جاتا ہے، جو پہلے سے ممی کے جسم میں ہوتا ہی ہے۔ اس موقع پر آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ممی کے جسم میں یہ بیج پاپا کا لنگ (عضو تناسل) لے جاسکتا ہے۔ اگر بچے کی عمر زیادہ ہے تو آپ اس میں اور جانکاریاں جوڑ سکتے ہیں۔ آپ کا بچہ اگر 7-6 سال کا ہے تو وہ اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔ ’جب یہ دونوں بیج ملتے ہیں تو یہ ایک ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد بیج بڑا ہوتا رہتا ہے اور ایک دن یہ ایک بیبی (بچہ) بن جاتا ہے، بالکل ایک پیڑ کی طرح جو شروع میں چھوٹا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے بڑا ہو جاتا ہے۔ ایک بار جب بچہ بڑا اور مضبوط ہوجاتا ہے تو ایک ڈاکٹر کی مدد سے بیبی کو ممی کے پیٹ سے باہر نکالا جاتا ہے۔


جیسے ہی بچہ بڑا ہوتا ہے اور پیوبرٹی کی عمر میں آتا ہے، آپ اسے انڈے اور منی کے بارے میں بتائیں اور یہ بھی کہ کیسے منی انڈے سے مل کر اس کی نشوونما (fertilise) کردیتا ہے، جب لنگ اسے لے کر انڈے تک تک penetration کے ذریعہ سے پہنچتا ہے، جب بچے کو یہ جانکاری دے رہے ہوتے ہیں تو یہ دھیان رکھئے کہ سیکس صرف شادی کے بعد ہی نہیں ہوتا ہے اور یہ صرف بچہ پیدا کرنے کے لئے ہی نہیں ہوتا۔


بچے کے پیدا ہونے کے طریقے کو بتاتے ہوئے یہ یاد رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ آپ جس سیکس کو فحش سمجھتے ہیں، وہ آپ کے بچے کے لئے ایک عام سے سوال کا جواب ہے۔ آپ جتنا ہی ایماندار اور واضح جواب دیں گے، بچہ اتنا ہی اس بارے میں محض محسوس کرے گا۔ حالانکہ، اگر ہم ان جواب کو شرمسار کرنے والا مانگیں گے تو جنسی صحت سے متعلق کلنک کو ہم آگے بڑھائیں گے۔ آپ اس معاملے کو لے کر مطمئن رہئے، سیدھا جواب دیجئے اور کوئی شرم نہ کیجئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 18, 2021 09:25 PM IST