ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

تھروننت پورم کے کلکٹر گوپال کرشنن نے قائم کی مذہبی رواداری کی مثال ، ہر طرف ہورہی تعریف ، جانئے کیوں

جامع مسجد ولاکاڈو کے قبرستان میں انجائیہ کی تدفین کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان کی بیوی لکشمی اور ان کے بیٹے روی کو تھروننت پورم سے حیدرآباد بھجوانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔

  • Share this:
تھروننت پورم کے کلکٹر گوپال کرشنن نے قائم کی مذہبی رواداری کی مثال ، ہر طرف ہورہی تعریف ، جانئے کیوں
تھروننت پورم کے کلکٹر گوپال کرشنن نے قائم کی مذہبی رواداری کی مثال ، ہر طرف ہوئی تعریف ، جانئے کیوں

کورونا کی وبا نے جہاں انسانوں کو مشکل حالات میں پھنسا دیا ہے ، وہیں اس مشکل گھڑی نے انسانوں کو ایک دوسرے کی مدد اور دوسروں کے جذبات کی قدر کرنا سکھادیا ہے ۔ گزشتہ ہفتہ حیدرآباد کے مضافات میں ایک مسلم شخص کی تدفین کیلئے پیش آنے والی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ان کے ہندو پڑوسیوں نے انہیں اپنے شمشان میں دفنانے کا انتظام کیا تھا ۔ اس کے بعد کیرالہ میں مقیم تلنگانہ کے ایک شہری انجائیہ کے آخری رسومات کا واقعہ سامنے آیا ہے ۔


کیرالہ میں مقیم تلنگانہ کے ضلع نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے 68 سالہ انجائیہ اپنی بیوی لکشمی اور بیٹے روی کے ساتھ براہ  تھروننت پورم  حیدرآباد تک سفر کی کوشش میں تھے ۔ تھروننت پورم میں قیام کے دوران انجائیہ میں کووڈ ۱۹ کی علامات ظاہر ہوئیں ، جس کے بعد انہیں پہلے پوجاپورم کووڈ سنٹر اور بعد میں تھروننت پورم گورنمنٹ جنرل اسپتال میں بھرتی کروایا گیا۔  27 مئی کو اسی اسپتال میں انجائیہ کا انتقال ہوگیا ۔ 28 مئی کو ان کی ٹسٹ رپورٹ کا نتیجہ آنے کے بعد ثابت ہو گیا کہ وہ کووڈ مثبت تھے ۔ ان کی بیوی اور بیٹے کی بھی جانچ کی گئی ، لیکن ان کی کووڈ رپورٹ نیگیٹیو پائی گئی ۔


ڈسٹرکٹ کلکٹر گوپالا کرشنن نے لکشمی اور روی کی خواہش کے مطابق تھروننت پورم میں واقع جامع مسجد ولاکاڈو کے صدر سیف الدین حاجی سے رابطہ قائم کیا ۔
ڈسٹرکٹ کلکٹر گوپالا کرشنن نے لکشمی اور روی کی خواہش کے مطابق تھروننت پورم میں واقع جامع مسجد ولاکاڈو کے صدر سیف الدین حاجی سے رابطہ قائم کیا ۔


انجائیہ کی موت کے بعد انتظامیہ نے ان کے نام کے مطابق ان کی آخری رسومات کے انتظامات کا ارادہ کیا،  لیکن ان کی بیوی لکشمی اور بیٹے روی نے ضلع کلکٹر جی گوپالا کرشنن سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ انجائیہ نے اسلام قبول کر لیا تھا ۔ لہٰذا التجا کی کہ ان کی تدفین مسلم قبرستان میں کی جائے ۔ حالانکہ لکشمی اور روی کے پاس انجائیہ کے اسلام قبول کرنے سے متعلق کوئی دستاویزی ثبوت نہیں تھا ۔ لیکن ڈسٹرکٹ کلکٹر گوپالا کرشنن نے انجائیہ کے خاندان کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے قبرستان میں تدفین کی خواہش پوری کرنے کا یقین دلایا ۔

تاہم سوال یہ تھا کہ اس صورت حال میں مقامی مسلمان کووڈ سے متاثر ایک اجنبی نو مسلم  متوفی کی قبرستان میں تدفین کی اجازت دیں گے ؟ ڈسٹرکٹ کلکٹر گوپالا کرشنن نے لکشمی اور روی کی خواہش کے مطابق تھروننت پورم میں واقع جامع مسجد ولاکاڈو کے صدر سیف الدین حاجی سے رابطہ قائم کیا ۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی نے انجائیہ کو مسجد کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت دے دی اور کووڈ پروٹوکول کے مطابق تکفین کے جملہ امور پورے ہونے تک مقامی انتظامیہ کی مدد کی ۔

جامع مسجد ولاکاڈو کے قبرستان میں انجائیہ کی تدفین کے بعد ضلع انتظامیہ کی جانب سے ان کی بیوی لکشمی اور ان کے بیٹے روی کو تھروننت پورم سے حیدرآباد بھجوانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔
First published: Jun 02, 2020 07:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading