ہوم » نیوز » وطن نامہ

اپنے پارٹنر سے پیار اور جنسی تعلقات کے باوجود ہے یہ مسئلہ

میں اور میرا پارٹنر، ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے درمیان جنسی تعلقات ہے۔ لیکن ہم ہمیشہ ایسا نہیں کرپاتے ہیں کیونکہ دیگر باتیں ہمارے درمیان آجاتی ہیں اور ہم کہیں اور مصروف ہوجاتے ہیں اور اپنے کام اور دیگر طرح کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ہم اپنے جنسی زندگی میں کیسے سدھار لائیں؟

  • Share this:
اپنے پارٹنر سے پیار اور جنسی تعلقات کے باوجود ہے یہ مسئلہ
اپنے پارٹنر سے پیار اور جنسی تعلقات کے باوجود ہے یہ مسئلہ۔ علامتی تصویر

سوال: میں اور میرا پارٹنر، ہم ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے درمیان جنسی تعلقات ہے۔ لیکن ہم ہمیشہ ایسا نہیں کرپاتے ہیں کیونکہ دیگر باتیں ہمارے درمیان آجاتی ہیں اور ہم کہیں اور مصروف ہوجاتے ہیں اور اپنے کام اور دیگر طرح کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ ہم اپنے جنسی زندگی میں کیسے سدھار لائیں؟


یہ اچھا ہے کہ آپ اور آپ کے پارٹنر زیادہ جنسی سکھ اٹھانا چاہتے ہیں۔ بہترین جنسی زندگی کی خواہش ہونا سب سے زیادہ سب سے زیادہ اہم ہے اور دیگر باتوں کا اتنا اہم نہیں ہے۔


آپ لوگوں کی جہاں تک بات ہے، ایسا لگتا ہے کہ آپ دونوں ہی کام اور دوسری ذمہ داریوں کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کے قریب ہونے کا موقع آپ کو نہیں مل پاتا ہے۔ اس لئے آپ کو ایک دوسرے لئے جتنا بھی وقت ملتا ہے اور جتنی بھی توانائی آپ بچا پاتے ہیں، آپ ایک دوسرے کے قریب ہونے میں لگائیں، سیکس کے لئے نہیں۔ اس بات کا پتہ لگائیے کہ ایسی کون سی چیز ہے، جو آپ کی توجہ بانٹتی ہے اور آپ کی جنسی زندگی کو متاثر کئے بغیر آپ کیسے اس کو ٹھیک کرسکتے ہیں۔


اس کی شروعات چھوٹی بات سے کیجئے، 15 منٹ کا وقت ایک دوسرے کے لئے رکھئے اور ایک دوسرے کو ایکسائیٹڈ کرنے میں اس وقت کا بہترین استعمال کیجئے۔ کئی بار ہم ’کرنے‘ کی کھلبلی میں اتنا زیادہ پھنس جاتے ہیں کہ ہم اس کو بند کرکے کچھ ’حاصل کرنے‘ کی حالت میں نہیں آپاتے ہیں، جو کہ ہمارے جذباتی اور جسمانی تغذیہ کے لئے ضروری ہے۔ آپ دھیرے دھیرے اس وقت کو 15 سے بڑھا کر 30 منٹ کردیجئے۔ کئی بار ہم جن عادتوں میں پھنسے ہوتے ہیں، ان سے نکلنے میں ہمیں کافی وقت لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جہاں تک دھیان تقیم کئے جانے کی بات ہے، اس کا حل نکالئے، بار بار سوشل میڈیا پر جانے اور وہاں کیا ہو رہا ہے، اس کے بارے میں جاننے کو لے کر کسی بھی عمل کا جرم بودھ نہیں پالئے۔ ہر وہ بات جو ہمارا دھیان بنٹاتی ہے، اس کے ساتھ کوئی نہ کوئی جذبہ جڑی ہوتی ہے، جو ہماری توانائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایسے کاموں کو کرنے کے لئے ہمارے اندر اکتاہٹ ہوتی ہے۔ اگر آپ دھیان بانٹنے کی اس بات (Distraction) کو نظراندازکریں گے، یا اس کا مکمل علاج نہیں کریں گے، تو یہ اور مضبوط ہوتا جائے گا اور بعد میں یہ بڑا سردرد ثابت ہوسکتا ہے اور آپ کا زیادہ دھیان کھینچے گا (یاد رکھیں کہ تجربہ کا کیریکٹر) ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کا دھیان چاہتا ہے) اس پر ایک لمحہ کے لئے غور کیجئے تاکہ اس کو لگے کہ آپ اس پر دھیان دے رہے ہیں اور پھر اسے اگلے کچھ وقت تک کے لئے ملتوی کردیجئے۔ آپ تصور کرسکتے ہیں کہ آپ نے خلفشار کو ’بعد کے کام‘ والے فولڈر میں ڈال دیا ہے۔ اس کے بعد آپ اپنی توجہ اپنے جسم میں ہونے والی ایکسائیٹیڈ پر لگائیے، جس کی طرف کھینچنے کے لئے آپ کا پارٹنر آپ کو ایکسائیٹیڈ کر رہے ہیں۔

آخر کار آپ خود کو اس کام کے لئے مکمل طور زیادہ ایکسائیٹیڈ کرنے کا ایک جدید ٹول تیار کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اگر اس کے بعد بھی پریشانی آتی ہے تو آپ کسی کاونسلر کی مدد لے سکتے ہیں۔

 

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 08, 2021 11:05 PM IST