ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

کرناٹک کے اس تعلیمی ادارے نے کمیونل وائرس اور کورونا وائرس دونوں کو دی شکست

سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران کرناٹک کے شاہین تعلیمی ادارہ کے خلاف ملک سے بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ کافی سرخیوں میں تھا۔

  • Share this:
کرناٹک کے اس تعلیمی ادارے نے کمیونل وائرس اور کورونا وائرس دونوں کو دی شکست
سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران کرناٹک کے شاہین تعلیمی ادارہ کے خلاف ملک سے بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ کافی سرخیوں میں تھا۔

کرناٹک کے شاہین تعلیمی ادارے نے NEET کے امتحانات میں اپنی کامیابی کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے اس بار ریاست کو پہلا نیٹ رینک دیا ہے ۔ حال ہی میں آئے NEET 2020 کے نتائج میں شاہین ادارے کے بیدر کیمپس کے طالب علم کارتک ریڈی نے ریاستی سطح پر پہلا رینک اور قومی سطح پر نواں رینک حاصل کیا ہے ۔ کارتک ریڈی نے کل 720 مارکس میں 710 مارکس حاصل کئے ہیں ۔ بیدر کیمپس کے ایک اور طالب علم محمد ارباز احمد نے ریاستی سطح پر تیسرا اور قومی سطح پر 85 واں رینک حاصل کیا ہے ۔ محمد ارباز احمد نے 720 میں سے 700 نمبرات حاصل کئے ہیں ۔ کارتک ریڈی اور محمد ارباز احمد دہلی کے ایمس میں MBBS کی سیٹ حاصل کرنے کی توقع رکھتے ہیں ۔


بنگلورو میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے شاہین تعلیمی ادارہ جات کے چئیرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ اس بار نیٹ کے نتائج کافی اچھے رہے ہیں ۔ شاہین تعلیمی ادارے کے  400 سے زیادہ طلبہ کو اس بار مفت میڈیکل سیٹیں ملنے کی توقع ہے ۔ گزشتہ سال 327 طلبہ، فری میڈیکل سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔  عبدالقدیر نے کہا کہ اس سال تقریبا 1800 طلبہ نے ان کے ادارے سے نیٹ کا امتحان دیا تھا ، ان میں 1600 طلبہ کوالیفائی ہوئے ہیں اور 400 طلبہ کو سرکاری کوٹہ میں فری میڈیکل سیٹ ملنے کی قوی امید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ادارے کو کرناٹک کے 8 فیصد میڈیکل سیٹ حاصل ہوئے تھے ، اس بار 10 فیصد فری میڈیکل سیٹیں مل سکتی ہیں ۔


اس سال شاہین تعلیمی ادارے کے نتائج پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی تھیں کیونکہ اس اقلیتی تعلیمی ادارے کے خلاف ملک سے بغاوت کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا ۔ اس طرح یہ ادارہ امسال ایک بڑے تنازع کا شکار ہوا تھا ۔ سی اے اے، این آر سی مخالف احتجاجوں کے دوران شاہین ادارہ کئی دنوں تک سرخیوں میں رہا ۔ تنازع کی وجہ ننھے بچوں کی جانب سے پیش کیا گیا ڈرامہ تھا ۔  ادارے کے پرائمری اسکول کے طلبہ نے سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر  کے خلاف سالانہ تقریب میں  ڈرامہ پیش کیا تھا ۔ اس ڈرامے کو ملک مخالف قرار دیتے ہوئے مقامی پولیس نے شاہین ادارے کی انتظامیہ کے چند افراد کے خلاف Sedition یعنی ملک کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا تھا ۔ اس پر خوب بحث ہوئی تھی اور سیاست بھی دیکھنے کو ملی تھی۔


ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ اس نازک دور میں بیدر کے عوام نے ان کا اور شاہین ادارے کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسکول طلبہ، اساتذہ اور انتظامیہ کی ہمت باندھی ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست اور حسد کی بنا پر اس طرح کا تنازع پیدا کیا گیا تھا ۔ عبدالقدیر نے کہا کہ شاہین ایک سیکولر ادارہ تھا اور رہے گا ۔ یہاں ہندو، مسلم ، سکھ اور عیسائی تمام مذاہب کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کا امتیاز برتا نہیں جاتا ۔ شاہین ادارے کے سالانہ نتائج اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں ۔ عبدالقدیر نے کہا ادارے کے خلاف الزامات لگانے والوں کا جواب وہ اپنے کام اور کارکردگی سے دیتے ہوئے آئے ہیں ۔ اس تنازع کا ادارہ پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی کوششوں میں کسی بھی طرح کی کمی آنے نہیں دی گئی ۔ اس لئے شاہین ادارے نے نیٹ کے امتحان میں  ریاست کو پہلا رینک دیا ہے ۔

نیٹ 2020 میں ریاستی سطح پر پہلا رینک حاصل کرنے والے شاہین کے طالب علم کارتک ریڈی نے کہا کہ کالج کے کیمپس میں صرف پڑھائی کا ماحول ہے ۔ ہندو مسلم سب ملکر پڑھائی کرتے ہیں ۔ کسی بھی طرح بھید بھاو نظر نہیں آتا ۔ کارتک ریڈی نے کہا کہ اس طرح کا سیکولر ماحول پورے ملک میں ہونا چاہئے ۔ شاہین تعلیمی ادارہ جات کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ لاک ڈاؤن اور کورونا کی وبا کے درمیان بچوں نے نیٹ 2020 کی تیاری کی ۔ اپنے اپنے گھروں میں رہ کر پڑھائی کی۔ ان تمام مشکلات اور پریشانیوں کے باوجود سالانہ امتحانات میں شاہین کا مظاہرہ شاندار رہا ہے ۔

کورونا وبا کے دوران بیدر میں شاہین تعلیمی ادارے نے اپنی چند عمارتوں کو کووڈ کیئر سینٹر میں تبدیل کیا تھا ۔ اس مقصد کیلئے اسکول کی عمارتوں کے استعمال کئے جانے پر ابتداء میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔  لیکن ادارے نے اپنی سماجی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے یہ ایک اہم قدم اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ شاہین کے کورنٹائن سینٹر سے کورونا کے کئی مریض شفایاب ہو کر اپنے اپنے گھر لوٹے ۔ اس طرح کرناٹک کے اس اقلیتی تعلیمی ادارے نے نہ صرف کورونا وائرس بلکہ فرقہ پرستی کے وائرس کو بھی شکست دیتے ہوئے سالانہ امتحانات اور نیٹ کے نتائج میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے ، جو دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کیلئے مثال بنی ہوئی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 31, 2020 11:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading