ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

عید کے دوسرے ہی دن تین افراد کا قتل، معاملہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش

اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں دہشت چھا گئی۔ آئی جی پی وپل کمار، ضلع کے ایس پی آنند کمار اور دیگر پولیس افسروں نے واردات کی جگہ کا معائنہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔رئیل اسٹیٹ، ہوٹل بزنس اور بیف کے کاروبار میں جاری رساکشی اور آپسی رنجیش اس واردات کی وجہ بتائی جارہی ہے۔

  • Share this:
عید کے دوسرے ہی دن تین افراد کا قتل، معاملہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش
اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں دہشت چھا گئی۔ آئی جی پی وپل کمار، ضلع کے ایس پی آنند کمار اور دیگر پولیس افسروں نے واردات کی جگہ کا معائنہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔رئیل اسٹیٹ، ہوٹل بزنس اور بیف کے کاروبار میں جاری رساکشی اور آپسی رنجیش اس واردات کی وجہ بتائی جارہی ہے۔

کرناٹک کے چامراج نگر ضلع کے گنڈل پیٹ شہر میں مسلم سماج کے جرائم پیشہ افراد نے پورے علاقے کو شرمسار کیا ہے۔ شہر کے ذاکر حسین نگر میں عید الفطر کے دوسرے ہی دن یعنی بروز منگل کی رات جان لیوا  ہتھیاروں سے لیس عنایت گینگ کے افراد نے نوراللہ گینگ پر وار کیا۔ جس کے نتیجے میں نوراللہ گینگ کے تین نوجوان ذکاء  اللہ،ادریس، قیصر  کی جگہ پر ہی موت ہوئی اور ایک شخص بری طرح زخمی ہوا۔ اس واقعہ کے بعد پورے علاقے میں دہشت چھا گئی۔


آئی جی پی وپل کمار، ضلع کے ایس پی آنند کمار اور دیگر پولیس افسروں نے واردات کی جگہ کا معائنہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا۔رئیل اسٹیٹ، ہوٹل بزنس اور بیف کے کاروبار میں جاری رساکشی اور آپسی رنجیش اس واردات کی وجہ بتائی جارہی ہے۔ حملہ کرنے والے گروہ کا سرغنہ عنایت روڈی شیٹر اور  بی جے پی کا مقامی لیڈر ہے۔ بتایا جارہا ہے عنایت نے نوراللہ کا مکان 60 لاکھ روپئے میں خریدا تھا، 20 لاکھ روپئے ادا کرنے باقی تھے۔


اس کے علاوہ دونوں گروہوں کے درمیان ہوٹل کا کاروبار، کیرلا کیلئے بیل، بھینس کی ٹرانسپورٹیشن کا دھندا  تکرار اور شدید اختلافات کا سبب بنا ہوا تھا۔ عید کے دوسرے ہی دن عنایت کے حامی اسلم، ضمیر اور دیگر نے نوراللہ کے گروہ پر حملہ کیا۔ بتایا جارہاہے کہ نوراللہ واردات کی جگہ پر موجود نہ تھا لیکن اس کے حامی ذکاء اللہ، ادریس اور قیصر پر حملہ ہوا اور تینوں کی موت واقع ہوئی۔


مقتول ذکی اللہ اور ادریس روڈی شیٹر کی فہرست میں شامل تھے۔تاریخ شہر میسور کے قریب گنڈل پیٹ میں پیش آئے اس واقعہ پر افسوس اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ملک کے تیسرے اور مسلم طبقے کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کے نام سے منسوب علاقے میں یہ وحشت، دہشت، درندگی کرناٹک کے مسلم سماج کیلئے لمحہ فکریہ بنی ہوئی ہے۔
First published: May 28, 2020 05:15 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading