உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآبادمیں ISI سےتعلق رکھنےوالےتین دہشت گردگرفتار، 'دہشت گردی سےمتعلق کئی کیسوں میں ملوث‘

    آنند نے کہا کہ تینوں افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جا رہا ہے۔

    آنند نے کہا کہ تینوں افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جا رہا ہے۔

    حیدرآباد کے پولیس کمشنر سی وی آنند نے کہا کہ ملزمان نے دھماکوں اور خود کش حملوں سمیت دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کی تھی۔ پولیس نے ان کے پاس سے چار ہینڈ گرنیڈ، 541,800 روپے نقدی اور ایک موٹرسائیکل ضبط کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Hyderabad | Jammu | Karnataka | Lucknow
    • Share this:
      حکام نے بتایا کہ حیدرآباد پولیس نے اتوار کے روز تین افراد کو گرفتار کیا جو مبینہ طور پر پاکستان کی انٹر سروس انٹیلی جنس (ISI) کے حکم پر شہر میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گرفتار شدگان کی شناخت 40 سال کا عبدالزاہد، رہائشی موسیٰ رام باغ، 39 سال کا محمد سمیع الدین، رہائشی سعید آباد اور 29 سال کا معاذ حسن فاروق، رہائشی ہمایوں نگر کے طور پر کی گئی ہے۔

      پولیس کے ذریعہ جمع کی گئی ابتدائی معلومات کے مطابق زاہد اس سے قبل حیدرآباد میں دہشت گردی سے متعلق کئی کیسو میں ملوث تھا جس میں 2005 میں حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر کے ٹاسک فورس کے دفتر بیگم پیٹ پر خودکش حملہ بھی شامل تھا۔ وہ آئی ایس آئی-ایل ای ٹی کے تین ہینڈلرز فرحت اللہ غوری عرف ایف جی، صدیق بن عثمان عرف رفیق عرف ابو حمزالہ اور عبدالمجید عرف چھوٹو کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھا۔ یہ تینوں آئی ایس آئی ہینڈلرز سبھی حیدرآباد کے رہنے والے ہیں اور کئی مقدمات میں مطلوب ہیں، اب پاکستان میں آباد ہیں اور آئی ایس آئی کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔

      حیدرآباد کے پولیس کمشنر سی وی آنند نے کہا کہ ملزمان نے دھماکوں اور خود کش حملوں سمیت دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کی تھی۔ پولیس نے ان کے پاس سے چار ہینڈ گرنیڈ، 541,800 روپے نقدی اور ایک موٹرسائیکل ضبط کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زاہد کو چار دستی بموں کی کھیپ ملی تھی اور وہ حیدرآباد میں دہشت گردانہ حملے کرنے جا رہا تھا۔ کمشنر نے کہا کہ مخصوص اطلاع پر چھاپے مارے گئے اور تین افراد کو ملک پیٹ میں گرفتار کیا گیا۔

      پولیس نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے مقامی نوجوانوں کو بھرتی کیا اور انہیں بنیاد پرست بنایا اور دہشت گردانہ حملوں کو انجام دیا جیسے کہ سائی بابا مندر کے قریب دھماکہ، 2002 میں دلسکھ نگر، ممبئی کے گھاٹ کوپر میں بس دھماکہ اور 2005 میں بیگم پیٹ میں ٹاسک فورس کے دفتر میں دھماکہ۔ انہوں نے دھماکے کرنے کی بھی کوشش کی۔ 2004 میں گنیش مندر سکندرآباد کے قریب بھی اس طرح کی کوشش کی گئی تھی۔

      پولیس کمشنر نے کہا کہ اپنے اعترافی بیان میں زاہد نے انکشاف کیا کہ فرحت اللہ غوری، ابو حمزلہ اور مجید نے اس کے ساتھ اپنے روابط بحال کیے تھے۔ انہوں نے زاہد کو بھرتی کرنے اور حیدرآباد میں دوبارہ دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے حوصلہ افزائی اور مالی امداد فراہم کی۔ پاکستان میں مقیم ہینڈلرز کے کہنے پر زاہد نے سمیع الدین اور معاذ حسن کو بھرتی کیا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      آنند نے کہا کہ تینوں افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انہیں عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جا رہا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: