உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مذہبی رواداری اوربین المذاہب دوستی کی مثال تھے ٹیپو سلطان

     حیدرآباد۔ دہلی میں اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کئے جانے کے بعد اورنگ زیب عالمگیرکے خلاف ایک مورچہ کھول دیا گیا تھا ۔

    حیدرآباد۔ دہلی میں اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کئے جانے کے بعد اورنگ زیب عالمگیرکے خلاف ایک مورچہ کھول دیا گیا تھا ۔

    حیدرآباد۔ دہلی میں اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کئے جانے کے بعد اورنگ زیب عالمگیرکے خلاف ایک مورچہ کھول دیا گیا تھا ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

       حیدرآباد۔ دہلی میں اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کئے جانے کے بعد اورنگ زیب عالمگیرکے خلاف ایک مورچہ کھول دیا گیا تھا ۔ اب  ہندوستان کےعظیم سپہ سالار اور مجاہد آزادی ٹیپو سلطان کا  کرناٹک سرکار کے ذریعے  یوم پیدائش منائے جانے کے خلاف ہنگامہ شروع ہو گیا ہے ۔ ہندو شدت پسند گریش کرناڈ کی اس تجویز سے  بھی برہم ہیں کہ بنگلورو ہوائی اڈے کانام ٹیپو کے نام پر رکھا جانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار یہاں منعقدہ ایک پروگرام میں کیا گیا۔


      پروگرام میں کہا گیا کہ سلطان ٹیپو پر اس سے قبل بھی مذہبی جوش اور غیر مسلم آبادی کے ساتھ تعصب  اور عد م رواداری کا مظاہرہ کرنے کا الزام لگتا رہا ہے ۔ مؤرخین نے ہندوستان پران کی حکومت پر مفصل تحریریں سپرد قلم کی ہیں۔ کچھ مؤرخین ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری اوربین المذاہب دوستی کی تعریف کرتے  ہیں جب کہ کچھ دیگر مؤرخین  ٹیپوسلطان کوتنقید کا نشانہ بناتے ہیں ۔  ٹیپو پر ہندوؤں اور عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو تباہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ 20 نومبر 1750 کو  بنگلور کے دیونا ہالی میں پیدا ہونے والے ٹیپو پر  الزامات کے برخلاف، ثبوتوں کی جانچ پڑتال سے متعلق  متعدد  معتبر  مورخین اور ادارے  ٹیپو سلطان کی فیاضی اور مذہبی برداشت کی تصدیق کر چکے ہیں۔


       تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ سلطان نے مختلف مندروں کو زیورات، سونے اور چاندی کے فیاضانہ تحائف کےعلاوہ 30سے زائد خصوصی گرانٹس بھی جاری کیں تھیں ۔ یہ بھی تسلیم کیا جاتاہے کہ سلطان ہندوؤں کے مذہبی رہنماؤں اور سادھوؤں کے ساتھ خصوصی لگاؤ رکھتے تھےاوران کی بہت زیادہ عزت افزائی کرتے تھے۔  یہ  بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ  برطانیہ کے خلاف اپنی جدوجہد میں غیر ملکی طاقتوں کی مدد حاصل کرنے کے لئے بین الاقوامی تعلقات کا ایک جال بننے میں ان کی تنہا دوربینی کا اب تک بہت کم اعتراف کیا گیا ہے۔ فرانسیسی ٹیپو کے فطری اتحادی تھے کیونکہ ہندوستان میں زمینی قبضے یا پیر جمانے کی جگہ حاصل کرنے کے سلسلے میں ان کا برطانیہ کے ساتھ مقابلہ تھا۔


      ٹیپو نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کیلیے سنجیدہ اقدامات کئے ۔سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں ۔ صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا ۔سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کیلیےخطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا۔ میسور کی آخری جنگ کےدوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی تب بھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا۔  غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ بارُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی۔ اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو  بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی 1799ء کو میداں جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئےشہید ہو گئے۔


      آج دو صدیاں بعد، ٹیپو سلطان کے دور حکومت اور غیرمسلم رعایا سے ان کے سلوک سے متعلق متعدد متنازعہ خبروں میں سے سچ کو واضح کرنا ایک مشکل کام ہے۔ ان کہانیوں میں سے کئی متعصبانہ خیالات سے لدی ہوئی اور معروضیت سے عاری ہیں۔ا بتدائی خبریں تو بالخصوص مشکوک ہیں کیونکہ وہ ان برطانوی جرنیلوں نے فراہم کی تھیں جو سلطان کے خلاف جنگوں میں شامل ہو چکے تھے اور جو ان کے لئے ایک  ناپسندیدگی    کا جذبہ رکھتے تھے۔ متعدد تاریخی مسودات کی سند سے قطع نظر، یہ بات یقینی ہے کہ ٹیپو سلطان جنوبی ایشیاء کے خداداد صلاحیتوں کے حامل اور صاحب بصیرت  ہندوستانی حکمرانوں میں سے ایک تھے ۔ ایسے میں ان پر الزامات لگانا یاسیاست کرنا یقینا درست نہیں ۔

      First published: