ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی ہڑتال جاری، مسافروں کو پریشانی کا سامنا

ریاست کے نائب وزیر اعلی اور وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن سودھی نے اپیل کی ہے کہ ملازمین فوری طور پر اپنی ہڑتال واپس لیں۔ حکومت سنجیدگی سے مطالبات پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی ہڑتال جاری، مسافروں کو پریشانی کا سامنا
کرناٹک میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی ہڑتال جاری، مسافروں کو پریشانی کا سامنا

کرناٹک میں ٹرانسپورٹ ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے سرکاری بس سرویس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ گذشتہ دو دنوں سے ٹرانسپورٹ کارپویشنوں کے ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن سودھی اور  ٹرانسپورٹ یونین کے لیڈروں کے درمیان آج بھی بات چیت ہوئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ لہذا محکمہ ٹرانسپورٹ کے ملازمین نے 13 دسمبر بروز اتوار سے اپنے احتجاج میں مزید شدت پیدا کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ ان ملازمین نے اب بھوک ہڑتال شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب سرکاری بس سرویس کے بند رہنے کے سبب لاکھوں مسافروں کو پریشانی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ نجی بس سرویس، آٹو اور ٹیکسی سرویس کا استعمال کرنے پر مسافر مجبور دکھائی دے رہے ہیں۔ بنگلورو کے مرکزی بس اسٹانڈ Majestic  میں آج دوسرے دن بھی بڑی تعداد میں مسافر بسوں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ پولیس بندوبست کے ساتھ چند سرکاری بسیں سڑکوں پر ضرور اتریں لیکن مسافروں کی تعداد کے سامنے یہ بسیں ناکافی تھیں۔


کرناٹک میں سرکاری محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت کل 4  کارپوریشن موجود ہیں۔ ان میں  KSRTC, BMTC, NEKRTC  NWKRTC  شامل ہیں۔ ان چاروں کارپویشنوں میں تقریبا 1 لاکھ 30 ہزار ملازمین کام کررہے ہیں۔ ان ملازمین کی سب سے بڑی مانگ ہے کہ انہیں سرکاری ملازمت کا درجہ دیا جائے۔ ویسے تو ان ملازمین کی یونین نے کئی مرتبہ یہ مانگ حکومت کے سامنے رکھی ہے۔ لیکن پہلی مرتبہ ٹرانسپورٹ کے یہ ملازمین بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

ان ملازمین کا اہم مطالبہ ہے کہ حکومت انہیں سرکاری ملازمت کا درجہ دے۔ دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کو ملنے والی سہولیات اور مراعات انہیں بھی فراہم کی جائیں۔ان مطالبات کے علاوہ کورونا کی وبا کی وجہ سے انتقال کر گئے ٹرانسپورٹ کے ملازمین کے اہل خانہ کو 30 لاکھ روپئے معاوضہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ حکومت کے سامنے رکھا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ ملازمین کی یونینوں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاون اور کورونا وبا کے باوجود بس کے ڈرائیور ہوں، کنڈکٹر ہوں یا تکنیکی عملہ ہو اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھتے ہوئے خدمات انجام دے چکا ہے۔ لیکن حکومت نے ٹرانسپورٹ کے ملازمین کو نہ کورونا وارئررس کا درجہ دیا اور نہ ہی کورونا سے انتقال کر گئے ملازمین کے رشتہ داروں کیلئے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔


کرناٹک میں سرکاری محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت کل 4  کارپوریشن موجود ہیں۔
کرناٹک میں سرکاری محکمہ ٹرانسپورٹ کے تحت کل 4 کارپوریشن موجود ہیں۔


دوسری جانب ریاست کے نائب وزیر اعلی اور وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن سودھی نے اپیل کی ہے کہ ملازمین فوری طور پر اپنی ہڑتال واپس لیں۔ حکومت سنجیدگی سے مطالبات پر غور کرنے کیلئے تیار ہے۔ لکشمن سودھی نے آج جاری کئے گئے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے جاری احتجاج، ہڑتال، بسوں پر پتھراؤ کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ حکومت، ٹرانسپورٹ کارپوریشنوں کے تمام ملازمین کے مفاد کی حفاظت کیلئے اپنی طاقت سے زیادہ کوششیں کررہی ہے۔ ٹرانسپورٹ کے ادارے خسارے میں رہنے کے باوجود لاک ڈاؤن اور کورونا کے حالات میں تمام ملازمین کو بغیر کسی  کٹوتی کے ساتھ تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔ ملازمین کی تمام مانگوں پر گفتگو کرنے کیلئے حکومت تیار ہے اور انہیں پورا کرنے کا بھروسہ بھی دیتی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ لکشمن سودھی نے اپیل کی کہ عوام کی خاطر ملازمین اپنے کام کاج پر لوٹیں۔

دوسری جانب حکومت نے یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹ ملازمین اپنی ہڑتال واپس نہیں لیں گے تو ESMA قانون نافذ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پیر سے نجی بس سرویس کی خدمات حاصل کرنے پر بھی حکومت غور و خوض کررہی ہے۔
وہیں ٹرانسپورٹ یونینوں نے اعلان کیا ہے کہ جب تک حکومت انکی مانگوں کو پورا نہیں کرتی تب تک وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان یونینوں کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش اور چند دیگر ریاستوں میں محکمہ  ٹرانسپورٹ کے ملازمین کو سرکاری ملازمت کا درجہ دیا گیا ہے۔ کرناٹک میں کیوں یہ دیرینہ مطالبہ پورا نہیں کیا جارہا ہے۔ ٹرانسپورٹ ملازمین کے اس ہڑتال کی کانگریس پارٹی، مزدور یونینوں، کسان اور کنڑا  تنظیموں نے بھی تائید کی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 13, 2020 12:16 AM IST