ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

این آرسی پرتری پورہ کےگورنرنےکہا "ہندوستان میں داخل ہونے والےمسلمان پناہ گزیں نہیں"۔

تری پورہ کے گورنر تتھاگت رائے نے کہا کہ ہندوستان میں داخل ہونے والے مسلمان پناہ گزیں نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے ملک میں کسی بھی طرح کا استحصال برداشت نہیں کیا ہے۔

  • Share this:
این آرسی پرتری پورہ کےگورنرنےکہا
تریپورہ کے گورنرتھاگت رائے: فائل فوٹو

آسام کے نیشنل شہریت رجسٹر (این آرسی) کے دوسرے ڈرافٹ کو لے کرسیاسی سرگرمی جاری ہے۔ 30 جولائی کو جاری این آرسی کے دوسرے ڈرافٹ میں آسام کے 40 لاکھ لوگوں کا نام شامل نہیں کیا گیا۔  ترنمول کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اسے مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے اقدام سے تعبیر کیا۔


اس درمیان تری پورہ کے گورنر تتھاگت رائے نے ان لیڈروں کو این آرسی کا پورا ڈرافٹ پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔ رائے نے کہا کہ ہندوستان میں داخل ہونے والے مسلمان پناہ گزیں نہیں ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے ملک میں کسی بھی طرح کا استحصال برداشت نہیں کیا ہے۔


مغربی بنگال بی جے پی کے سابق صدرتتھاگت رائے نے کہا کہ صرف وہی مسلم پناہ گزیں ہیں، جو مذہب، ذات، سیاسی عقائد کے سبب استحصال کے خوف سے اپنے ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔ روزگاریا معاشی مواقع کی تلاش میں دوسرے ملک جانے والے لوگ پناہ گزیں نہیں بلکہ دراندازہیں۔


تری پورہ کے گورنرنے ٹوئٹ کیا "ہندوستان میں داخل ہورہے مسلمان پناہ گزیں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے ملکوں میں کسی طرح کا استحصال برداشت نہیں کیا ہے۔



تری پورہ کے گورنرنے کہا "پناہ گزینوں کے لئے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی تنظیم یواین ایچ سی آرکی تعریف، جسے کسی وجہ سے ہندوستانی حکومت کے ذریعہ اب تک رسمی طور پر قبول نہیں کیا گیا ہے' کے مطابق بنگلہ دیش اور پاکستان سے بھاگ رہے ہندو، سکھ، عیسائی اوربودھ پناہ ہیں، اس میں مسلمانوں کا ذکرنہیں ہے۔

واضح رہے کہ تری پورہ کے گورنرنے یہ باتیں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے بیان کے بعد اسی پس منظر میں کہی ہیں۔  آسام کے این آرسی ڈرافٹ 40 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو باہررکھنے پر فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ وہ سب ہندوستانی اپنی ہی زمین پر پناہ گزیں ہوگئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آسام میں پیرکواین آرسی کا دوسرا ڈرافٹ جاری کیا گیا، اس میں 3.29 کروڑ درخواست دہندگان  میں سے 2.89 کروڑ کے نام ہیں۔ 40 لاکھ لوگوں کا نام شامل نہیں کیا گیا ہے، اس لسٹ میں جن لوگوں کا نام شامل نہیں ہے، وہ فارنرس ٹریبیونل میں اپیل کرسکتے ہیں۔ اگر وہاں بھی وہ شہریت کے ثبوت نہیں دے پائے، تو انہیں غیرقانونی شہری ہونے کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
First published: Aug 01, 2018 02:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading