உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دربھنگہ ریلوے اسٹیشن دھماکہ کیس میں این آئی اے نے حیدرآباد سے دو بھائیوں کو کیا گرفتار

    دربھنگہ ریلوے اسٹیشن دھماکہ کیس میں این آئی اے نے حیدرآباد سے دو بھائیوں کو کیا گرفتار

    دربھنگہ ریلوے اسٹیشن دھماکہ کیس میں این آئی اے نے حیدرآباد سے دو بھائیوں کو کیا گرفتار

    Darbhanga Parcel Blast Case: این آئی اے نے دربھنگہ بم دھماکہ معاملہ میں دو بھائیوں کو حیدرآباد سے گرفتار کیا ہے ۔ یہ دھماکہ 17 جون کو ہوا تھا ،جس میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی ۔

    • Share this:
      حیدرآباد : این آئی اے نے دربھنگہ بم دھماکہ معاملہ میں دو بھائیوں کو حیدرآباد سے گرفتار کیا ہے ۔ یہ دھماکہ 17 جون کو ہوا تھا ،جس میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی ۔ کل شام این آئی اے کی ٹیم نے حیدرآباد میں کیمپ کرتے ہوئے محمد ناصر خان اور ان کے بھائی عمران ملک ، جو یوپی میں کپڑے فروخت کرتے ہیں ، کو گرفتار کیا ۔

      بتادیں کہ نامعلوم کمیکل والی بوتل اس کپڑوں کے  پارسل میں رکھی گئی تھی ، جو دربھنگہ کے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر دو پر پھٹ پڑی تھی ۔ ٹرین کے کمپارٹمنٹ سے لیگیج نکالنے کے دوران یہ حادثہ پیش آیا تھا  ۔ جانچ کرنے والے افسران نے ان افراد کے خلاف معاملہ درج کیا تھا ، جنہوں نے سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر اس پارسل کی بکنگ کروائی تھی ۔

      این آئی اے کے مطابق سکندرآباد میں محمد سفیان نے اس پارسل کی بکنگ کروائی تھی ۔ پارسل کی جس شخص نے بکنگ کروائی اس کے پین نمبر میں الٹ پھیر کی گئی تھی ۔ تاہم بکنگ کے موقع پر ملزم کا فون نمبر اور ریلوے اسٹیشن کے قریب فراہم کردہ سی سی ٹی وی فوٹیج نے حیدرآباد کے ملے پلی سے ان دونوں بھائیوں کو حراست میں لینے میں اہم سراغ دستیاب کراویا ۔

      این آئی اے نے دھماکہ خیز مادہ ایکٹ کی دفعات 3,4,5 کے تحت ان کو گرفتار کیا ۔ این آئی اے کے عہدیداروں نے تصدیق کی ہے کہ ان کو ٹرانزٹ وارنٹ پر پٹنہ لے جایا گیا ہے ۔

      بتادیں کہ گزشتہ سال بھی دربھنگہ کے یونیورسٹی تھانہ کے اعظم نگر محلہ میں چھ جون 2020 کی دوپہر کو ایک گھر میں تیز دھماکہ ہوا تھا ۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئی تھی ۔ جس گھر میں دھماکہ ہوا تھا وہ گھر پوری طرح سے تباہ ہوگیا تھا ۔ یہی نہیں اس دھماکہ کی شدت کی وجہ سے کئی دوسرے گھروں میں بھی دراریں پڑ گئی تھیں اور کئی مکانات کے شیسے ٹوٹ گئے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: