உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یہ ہے اصلی ہندوستان ، محمد یونس نے سیلاب متاثرین کے لئے کھولے اپنے فلیٹوں کے دروازے

    چنئی : ایسے وقت میں جب کہ ملک بھر میں عدم رواداری پر بيان بازيوں کا سلسلہ جاری ہے اور فرقہ واریت ومذہبی تعصب پر بحث کی جارہی ہے ، تمل ناڈو میں شدید سیلاب کے درمیان ایک بہت ہی اچھی خبر بھی آئی ہے۔

    چنئی : ایسے وقت میں جب کہ ملک بھر میں عدم رواداری پر بيان بازيوں کا سلسلہ جاری ہے اور فرقہ واریت ومذہبی تعصب پر بحث کی جارہی ہے ، تمل ناڈو میں شدید سیلاب کے درمیان ایک بہت ہی اچھی خبر بھی آئی ہے۔

    • Share this:

      چنئی : ایسے وقت میں جب کہ ملک بھر میں عدم رواداری پر بيان بازيوں کا سلسلہ جاری ہے اور فرقہ واریت ومذہبی تعصب پر بحث کی جارہی ہے ، تمل ناڈو میں شدید سیلاب کے درمیان ایک بہت ہی اچھی خبر بھی آئی ہے۔


      تمام لوگ بڑھ چڑھ امدادی کاموں میں ہاتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہیں محمد یونس، جنہوں نے سیلاب متاثرین کو رہنے کے لئے اپنا گھر دینے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کا گھر بچوں اور عورتوں کے رہنے کے لئے بھی موزوں ہے۔ جنہیں بھی مدد کی ضرورت ہے، وہ فوری طور پر رابطہ کر سکتے ہیں۔


      محمد یونس نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر لکھا ہے کہ پلي كرنئی اور نگم بكم میں ان کے پاس دو فلیٹ خالی ہیں، جس میں آسانی سے 12 سے 14 لوگ رہ سکتے ہیں۔ چنئی میں سیلاب سے متاثرہ کوئی بھی شخص میرے گھر پر رک سکتا ہے۔ مجھے اپنا بھائی سمجھیں اور آکر رہیں۔


      محمد یونس نے آگے لکھا ہے کہ میرا فلیٹ عورتوں اور بچوں کے رہنے کے لئے خاص طور پر موزوں ہے۔ آپ کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو کسی بھی وقت میرے نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ یونس کے اس فیس بک اسٹیٹس کو لوگوں نے جم کر شیئرکیا۔


      یونس نے کچھ دیر بعد اپنے اسٹیٹس کو اپ ڈیٹ کیا اور کہا کہ میرے اسٹیٹس کے بعد بہت سے لوگوں نے جگہ دینے کی پیشکش کی۔ کافی لوگ سامنے آئے۔ اچھا لگا۔ ضرورت مندوں کے لئے اب بھی میرے پاس جگہ ہے۔ فی الحال نگم بكم والے فلیٹ میں رہنے کے لئے 6 خواتین آ چکی ہیں۔ محمد یونس نے کہا کہ میں نے لوگوں کو مدد کی پیشکش کی، جس میں آپ لوگوں کا کافی ساتھ ملا۔شکریہ


      محمد یونس نے آئی بی این خبر کو بتایا کہ ان کے پاس جگہ خالی تھی۔ انہیں لگا کہ شاید یہ لوگوں کے کچھ کام آ سکے۔ لوگ بے گھر ہو کر بھٹک رہے ہیں۔ ایسے میں فیس بک پر میں نے اسٹیٹس لکھا اور لوگوں کا ساتھ ملا۔ میں اس بات سے بہت خوش ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اصلی ہندوستان باہمی محبت میں ہے، علاحدگی پسندی میں نہیں۔

      First published: