ہوم » نیوز » وطن نامہ

شہریت قانون کےخلاف روشن باغ میں جاری خواتین کے دھرنے پر پولیس نےکسا شکنجہ

منصور پارک میں گذشتہ 16 دنوں سے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ہزاروں خواتین احتجاجی دھرنے پربیٹھی ہوئی ہیں، لیکن پولیس کی طرف سے دباؤ بنائے جانے کےبا وجود احتجاجی خواتین نےدھرنا ختم کرنے سے انکارکردیا ہے۔

  • Share this:
شہریت قانون کےخلاف روشن باغ میں جاری خواتین کے دھرنے پر پولیس نےکسا شکنجہ
شہریت قانون کےخلاف روشن باغ میں جاری خواتین کے دھرنے پر پولیس نےکسا شکنجہ

الہ آباد: الہ آباد کے روشن باغ میں جاری شہریت قانون کے خلاف احتجاجی دھرنے پر مقامی پولیس انے اپنا شکنجہ کسنا شروع کردیا ہے۔ پولیس نے روشن باغ منصور پارک کے اردگرد اپنا گھیرا اور بھی تنگ کردیا ہے۔ منصور پارک میں گذشتہ 16 دنوں سے شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف ہزاروں خواتین احتجاجی دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں، لیکن  پولیس کی طرف سے دباؤ بنائے جانےکے با وجود احتجاجی خواتین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ درایں اثناء دھرنے میں شامل ہونے والی خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔


واضح رہےکہ احتجاج کی شدت کم کرنے اور مرحلہ وار دھرنے ختم کرانے کی پولیس کی کوششیں کئی بار ناکام ہو چکی ہیں۔ ایک بار پھر مقامی پولیس منصور پارک کا گھیرا تنگ کرتی جا رہی ہے۔ دھرنےکی جگہ پر بھاری تعداد میں پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے، لیکن دھرنے پر بیٹھے افراد کسی  بھی صورت یہاں سے ہٹنےکو تیار نہیں ہیں۔ دھرنے پر بیٹھی خواتین پوری شدت کے ساتھ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف نعرے بازی کر رہی ہیں، جس کے ساتھ ہی احتجاج کا دائرہ اور پھیلتا جا رہا ہے۔


الہ آباد کے روشن باغ میں احتجاج کی شدت کم کرنے اور مرحلہ وار دھرنے ختم کرانے کی پولیس کی کوششیں کئی بارناکام ہو چکی ہیں۔


منصور پارک کے آس پاس علاقوں سے خواتین کےچھو ٹے چھوٹے جلوس بھی دھرنےمیں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ دھرنے کے انتظامات میں شامل افراد کا الزام ہےکہ روشن باغ میں پولیس فورس تعینات کرکے عورتوں اور بچوں میں خوف پیدا کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔ غور طلب ہے کہ ۲۹؍ جنوری  کو وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ دو روزہ دورے پر الہ آباد آنے والے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے دورے کے پیش نظر پولیس انتظامیہ پر روشن باغ دھرنےکو ختم کرانےکا بھی دباؤ ہے۔ اس وقت مقامی انتظامیہ کی کوشش ہے کہ 29 جنوری سے پہلے دھرنا ختم کرادیا جائے ۔اس کےلئے دھرنے میں شامل بعض افراد سے پس پردہ بات بھی کر رہی ہےتاکہ اس احتجاجی دھرنےکو پر امن طریقے سے ختم کرایا جا سکے۔
First published: Jan 27, 2020 07:35 PM IST