உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کے مسلمان پکے ہندوستانی، ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر: وینکیا نائیڈو

    حیدرآباد۔ مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات ایم وینکیا نائیڈو نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ملک کے مسلمان پکے ہندوستانی ہیں ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔

    حیدرآباد۔ مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات ایم وینکیا نائیڈو نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ملک کے مسلمان پکے ہندوستانی ہیں ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔

    حیدرآباد۔ مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات ایم وینکیا نائیڈو نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ملک کے مسلمان پکے ہندوستانی ہیں ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      حیدرآباد۔ مرکزی وزیر اطلاعات ونشریات ایم وینکیا نائیڈو نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ملک کے مسلمان پکے ہندوستانی ہیں ان کی حب الوطنی شک وشبہ سے بالاتر ہے۔ وینکیا نائیڈو نے شہر حیدرآباد میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے اردو صحافیوں کے پانچ روزہ تربیتی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی آزادی کے وقت یہاں کے مسلمانوں کو ایک موقع دیا گیا تھا کہ وہ اپنے ملک کا انتخاب کریں لیکن مسلمانوں کی اکثریت نے حب الوطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی۔ مرکزی وزیر نے ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد اور ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نے ملک کی تقسیم کے وقت جو موقف اختیار کیا تھا اس پر انہیں بُرے حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم تمام کی ذمہ داری ہے کہ ہم جو پچھڑے افراد اقلیتوں میں ہیں ان کو اصل دھارے میں لاتے ہوئے انہیں بااختیار بنائیں ۔


      انہوں نے کہا کہ مسلمان مادری زبان سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔مادری زبان چاہے کوئی بھی علاقائی زبان ہی کیوں نہ ہو اس کو پروان چڑھانے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں ۔مرکزی وزیر نے مادری زبان میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ مادری زبان میں تعلیم حاصل نہ کرنا ہندوستانیت کے خلاف ہے۔  ہمیں تمام زبانیں سیکھنا چاہئے لیکن مادری زبان سے دوری اختیا ر نہیں کرنی چاہئے کیونکہ مادری زبان سے دوری ایک سماجی مسئلہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اردو صحافیوں کی تربیت کے مسئلہ پر کہا کہ تربیت ہرشعبہ میں ضروری ہے ۔صحافت کے اصولوں اور اقدار کو ہمیں برقرار رکھناچاہئے۔


      انہوں نے کہا کہ خبرو ں کے ساتھ ہمیں ہماری رائے کا اضافہ نہیں کرنا چاہئے اور صحافت پر بھروسہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ بھروسہ اٹھ گیا تو یہ بہت بڑا دھکہ ہوگا۔اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر محمد اسلم پرویز،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبا ن کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم ،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ وصحافت کے صدر پروفیسر احتشا م احمد اور دوسرے موجود تھے۔

      First published: